استور ،چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان کی زیرِ سربراہی سپریم اپیلیٹ کورٹ میں تین روزہ سماعت، 10 مقدمات نمٹا دیے

چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ، گلگلت بلتستان سردار محمد شمیم خان کی زیرِ سربراہی سپریم اپیلیٹ کورٹ میں 22 جون سے 24 جون تک تین روزہ عدالتی کارروائی منعقد ہوئی، جس کے دوران مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ضابطۂ فوجداری، دیوانی اور ملازمت سے متعلق 10 مقدمات کا فیصلہ سنا کر انہیں نمٹا دیا

استور۔ 30 جون (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ، گلگلت بلتستان سردار محمد شمیم خان کی زیرِ سربراہی سپریم اپیلیٹ کورٹ میں 22 جون سے 24 جون تک تین روزہ عدالتی کارروائی منعقد ہوئی، جس کے دوران مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ضابطۂ فوجداری، دیوانی اور ملازمت سے متعلق 10 مقدمات کا فیصلہ سنا کر انہیں نمٹا دیا۔عدالتی ذرائع کے مطابق سماعت کے دوران فوجداری، دیوانی اور سروس معاملات سے متعلق مقدمات پر تفصیلی دلائل سنے گئے، جن کے بعد چیف جسٹس نے قانون اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے صادر کیے۔ اس دوران مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سائلین کی جانب سے متعدد نئی اپیلیں بھی دائر کی گئیں، جن پر عدالت نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں تاکہ آئندہ سماعت پر ان مقدمات کی باقاعدہ سماعت کی جا سکے۔واضح رہے کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ تین ججوں پر مشتمل عدالت ہے، تاہم اس وقت چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان واحد جج کے طور پر عدالتی امور سرانجام دے رہے ہیں اور مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔

عدالتی حلقوں کے مطابق سپریم اپیلیٹ کورٹ عوام کو بروقت، فوری اور کم لاگت انصاف کی فراہمی کے عزم پر کاربند ہے۔ محدود دستیاب وسائل کے باوجود عدالت مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے اور سائلین کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ تین روزہ عدالتی کارروائی بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دی جا رہی ہے، جس سے زیرِ التوا مقدمات کے بروقت فیصلوں اور عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے#، سردار محمد شمیم خان کی زیرِ سربراہی سپریم اپیلیٹ کورٹ میں 22 جون سے 24 جون تک تین روزہ عدالتی کارروائی منعقد ہوئی، جس کے دوران مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ضابطۂ فوجداری، دیوانی اور ملازمت سے متعلق 10 مقدمات کا فیصلہ سنا کر انہیں نمٹا دیا۔عدالتی ذرائع کے مطابق سماعت کے دوران فوجداری، دیوانی اور سروس معاملات سے متعلق مقدمات پر تفصیلی دلائل سنے گئے، جن کے بعد چیف جسٹس نے قانون اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے صادر کیے۔

اس دوران مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سائلین کی جانب سے متعدد نئی اپیلیں بھی دائر کی گئیں، جن پر عدالت نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں تاکہ آئندہ سماعت پر ان مقدمات کی باقاعدہ سماعت کی جا سکے۔