بھارت کے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور پانی کو ہتھیار بنانے کی کوشش علاقائی امن کیلئے خطرہ ہے، اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے پاکستانی سیاسی قیادت، وفاقی وزراء اور بین الاقوامی قانونی ماہرین کا خطاب

بھارت کے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور پانی کو ہتھیار بنانے کی کوشش علاقائی امن کیلئے خطرہ ہے، اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے پاکستانی سیاسی قیادت، وفاقی وزراء اور بین الاقوامی قانونی ماہرین کا خطاب

اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):پاکستانی سیاسی قیادت، وفاقی وزراء، بین الاقوامی قانونی ماہرین اور پالیسی تجزیہ کاروں سمیت مقررین نے بھارت کی جانب سے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نئی دہلی کے یہ اقدامات بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور اور جنوبی ایشیا میں ایک سنگین تزویراتی تصادم کے خطرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ منگل کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر پابند معاہدہ ہے جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی منسوخ کرسکتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز نے وزارت اطلاعات و نشریات کے اشتراک سے اس سیمینار کا انعقاد کیا جس میں وفاقی وزراء، سفارت کاروں اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ عالمی موسمیاتی بحران کے دوران بھارت کی جانب سے معاہدے کے تحت لازمی (ہائیڈرولوجیکل) آبی وسائل سے متعلق ڈیٹا کی فراہمی اور معائنہ جاتی سرگرمیوں کو معطل کرنا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے جو پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کی زندگیوں اور روزگار کیلئے براہ راست خطرہ ہے۔ ماہرین نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے اہم ترین سرحد پار آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے جو بنیادی طور پر آبپاشی پر انحصار کرنے والی معیشت اور 24 کروڑ سے زائد افراد کے روزگار کو سہارا دیتا ہے۔ پاکستان کی80 فیصد سے زائد قابل کاشت اراضی کا انحصار دریائے سندھ کے نظام آب پر ہے جس کے باعث پانی کی دستیابی میں پیشگی یقین دہانی، آبی اعداد و شمار کا تبادلہ اور معاہدے کے معمول کے طریقہ کار انسانی سلامتی، غذائی تحفظ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے ناگزیر ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کو غیر قانونی طور پر معطل کر کے نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کو کمزور کیا ہے بلکہ خطے کو تنازعہ کے خطرے سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانس بائونڈری دریا ممالک کے درمیان فاصلے بڑھانے کے بجائے انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ سمجھا جانا چاہیے، پاکستان نے اسی جذبے کے تحت بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کیا حالانکہ اس کیلئے پاکستان کو نمایاں رعایتیں دینی پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ خطے کے اہم ترین مشترکہ وسائل میں سے ایک کے استعمال کے حوالے سے طویل المدتی پیش بینی اور استحکام فراہم کرے گا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کے اعلان اور معاہدے کے مطابق مشترکہ آبی وسائل پر پاکستان کے ساتھ تعاون سے انکار پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدوں کا تقدس ان بنیادی اصولوں میں شامل ہے جن پر اقوام کے درمیان پرامن تعلقات استوار ہوتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔

سیمینار کی افتتاحی نششت سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کی بے اعتنائی نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کے تقدس کو کمزور کر رہی ہے بلکہ عالمی امن اور نظم و ضبط کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی تہذیب کی بنیاد ہے اور اس کی شناخت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو دریائے سندھ کے پانیوں پر ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی ناکام کوشش بھارت کیلئے بین الاقوامی سطح پر سبکی کا باعث بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کی اخلاقی، سماجی اور قانونی بنیادیں انتہائی کمزور ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خاص طور پر عالمی موسمیاتی بحران کے تناظر میں معاہدے کی حیثیت تبدیل کرنے کی بھارتی غیر قانونی کوششوں کا نوٹس لے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی شہ رگ ہے جس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ ترمیم، منسوخی یا معطلی ممکن نہیں، بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں جس کے باعث اسے مختلف عالمی فورمز پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان پانی کے حق کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر اقدامات کرے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دریائے سندھ ہماری شہ رگ ہے اور پاکستان کے24 کروڑ عوام کو اس کے پانی پر ایک ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے پانی محض ایک وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کا مسئلہ ہے، دریائے سندھ کا آبی نظام صدیوں سے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی بلند و بالا چوٹیوں سے لے کر پنجاب اور سندھ کے ذرخیز میدانوں تک یہ پانی ہمیں جغرافیہ اور تاریخ سے جوڑتا آیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ عالمی بینک کی سرپرستی میں طے پانے والا یہ معاہدہ جنگوں، سیاسی اتار چڑھائو اور طویل عرصے کی کشیدگی کے باوجود قائم و دائم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک اس معاہدے کی مضبوطی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ تعاون، مکالمہ اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری ہی امن کا واحد پائیدارراستہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے مختلف مواقع پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کے عوام کو دریائے سندھ کے پانی پر حق حاصل ہے اور سندھ طاس معاہدے میں نہ تو یکطرفہ طور پر ترمیم کی جا سکتی ہے نہ اسے منسوخ، معطل یا غیر موثر کیا جا سکتا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ معاہدہ باہمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا اور اس میں کسی بھی ترمیم یا نظرثانی کے لئے بھی صرف باہمی رضامندی ہی درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن روابط، تعمیری مکالمے اور معاہدے کے دیانتدارانہ نفاذ کے لئے پرعزم رہا ہے تاہم اگر پاکستان کے پانی کو روکنے کی کوشش کی گئی تو ہماری قومی قیادت پاکستان کے عوام کے پانی کے حق کو محفوظ بنانے کے لئے موثر جواب دینے کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اس عزم کا اعادہ کرنا چاہئے کہ ہم ہر صورت نہ صرف اس معاہدے کی حرمت کا تحفظ کریں گے بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے دریائے سندھ کے پانی پر ناقابل تنسیخ حق کے تحفظ کے لئے بھی ہر ممکن اقدام کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ امن کا تصور ممکن نہیں تو دنیا یہ کیسے توقع کرسکتی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے باوجود خطے میں امن اور استحکام برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کو نشانہ بنا کر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں بھارت کے ہر اقدام کو پاکستان کے خلاف جنگی اقدام تصور کیا جائے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ معاہدے کے خلاف بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو چیلنج کرنے میں پاکستان کی حمایت کرے تاکہ خطے میں کشیدگی بڑھنے اور اسے ایک تزویراتی تباہی کی طرف لے جانے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک بین الاقوامی کنونشن کا بھی مطالبہ کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارت کے غیر قانونی اقدامات پاکستان میں موسمیاتی بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک کی خلاف ورزی کر کے بھارت نے بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات دنیا بھر کے زیریں کنارے والے ممالک کے حقوق کی نئی تشریح کر رہے ہیں جس کے عالمی نتائج سے بین الاقوامی برادری کو آگاہ ہونا چاہیے۔ سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارتی رویہ پوری دنیا کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے، سندھ طاس معاہدہ برقرار رہنا ضروری ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق اور دریائے سندھ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ملک کی پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکنا ایک وجودی حملہ ہے، بھارت کا مقصد پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانا ہے، پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا، پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کو روکنا ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے، پاکستان واضح کرچکا ہے کہ وہ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو علاقائی اور عالمی امن یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وفاقی وزیر نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر التواء میں ڈالنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں، انصاف کا معاملہ ہے، پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا ذریعہ معاش زراعت ہے، اصل مسئلہ بھارت کی جانب سے پانی کو کنٹرول کر کے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 3 جنگوں میں بھی قائم رہا، اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ کوئی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کرسکتا، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی ہے کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر آبی ذخائر نہیں بناسکتا، بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے بھی انکاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوا تو پھر دنیا کے ہر نشیبی ملک کے حصے کا پانی روکا جائے گا۔

پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو نہ تو معطل اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے، یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جو خطے میں امن،استحکام اور پاکستان کے آبی تحفظ کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ سید مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک حتمی اور قانونی تصفیہ ہے جس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ سیاسی فیصلے کے ذریعے اسے معطل یا ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بنیادی طور پر اس مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا کہ پانی کے معاملات کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ کشیدگی کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا آرٹیکل9 دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے ایک جامع اور واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ انڈس واٹرز کمشنر نے کہا کہ معاہدے کے تحت بھارت پر لازم ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ دریائوں کے بہائو اورہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا بروقت تبادلہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مطلوبہ آبی معلومات فراہم نہ کرنا تشویش کا باعث ہے کیونکہ زیریں بہائو والے ملک کے لیے بروقت آبی اعداد و شمار پانی کے موثر انتظام اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے معاہدے کی معطلی کے بعد بھارت کی جانب سے کیے گئے تمام غیر قانونی اقدامات کا ذکر کیا جن میں بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنا اور سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائوں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل شامل ہے۔ سابق نگراں وفاقی وزیر قانون و انصاف احمر بلال صوفی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت سرحدی آبی وسائل عالمی مشترکہ اثاثے ہیں اور کوئی بھی ملک اپنی حدود سے گزرنے والے پانی پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنا درحقیقت معاہدے کی خلاف ورزی کا اعتراف ہے جس سے پاکستان کو قانونی طور پر اقدامات کے ذریعے جواب دینے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سابق صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی قومی سلامتی اور قومی مفاد کا معاملہ ہے، بھارت پاکستان کے مختلف دریائوں پر آبی ذخائر تعمیر کرکے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے، حکومت کو بھارت کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کیلئے پانچ نکاتی حکمت عملی پر عمل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس قدیم تہذیب ہے، سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی قومی سلامتی اور قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دیگر سنگین تنازعات کو روکنے کا ایک جامع اور پائیدار میکنزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارت گزشتہ 10 سال سے مختلف حیلے بہانے کرکے اس معاہدہ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کا تنہا اور کمزور کرنا ہے لیکن بھارت کو اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے دریائے سندھ پر پانی کے 2 ذخائر تعمیر کئے ہیں جبکہ تیسرے پر کام جاری ہے، اسی طرح دریائے جہلم پر بھارت نے آبی ذخائر کے پانچ منصوبے مکمل کئے ہیں جس میں کشن گنگا ڈیم سب سے اہم ہے، اسی طرح دریائے چناب کا معاملہ سب سے سنگین ہے جہاں بھارت نے متعدد آبی ذخائر تعمیر کئے ہیں، چار منصوبے مکمل کئے جا چکے ہیں ، دیگر پانچ پر کام جاری ہے، چناب ، ستلج لنک کینال سے دریائے ستلج کا پانی موڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبی ذخائر پاکستان کی قومی سلامتی کیلئے حقیقی خطرہ ہیں، ہمیں اس معاملہ سے نمٹنے کیلئے پانچ نکاتی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے، قانونی اور سفارتی طریقہ کار اپنانا چاہئے، تکنیکی اور آپریشنل تیاری کرنی چاہئے، ڈومیسٹک واٹر مینجمنٹ سسٹم وضع کرنا چاہئے، اپنی ریڈ لائن وضع کرکے مربوط ڈیٹرنس کو بروئے کار لانا چاہئے۔ سابق وزیر مملکت برائے خارجہ اورقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کی چیئرپرسن حنا ربانی کھر نے زور دیا کہ پاکستان کوسندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون اور عالمی سفارت کاری کے تمام قانونی ذرائع بھرپور انداز میں استعمال کرنے چاہئیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے اس تاریخی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دینے کی کوشش بین الاقوامی قواعد پر مبنی نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ انہوں نے 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 12کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاہدے میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا اس کا خاتمہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ توثیق شدہ معاہدے کے ذریعے ہی ممکن ہے، لہذا اسے یکطرفہ طور پر معطل یا غیر موثر قرار دینے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ یہ معاہدہ بالکل واضح ہے۔ اسے محض سیاسی بیانات یا یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا خاتمہ صرف دونوں حکومتوں کی باقاعدہ توثیق شدہ رضامندی سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے موجودہ حالات میں معاہدے پر ازسرنو مذاکرات کے مطالبات سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک کسی موجودہ قانونی معاہدے کو اس وقت تک ترک نہیں کرتا جب تک دونوں فریق کسی متبادل معاہدے پر متفق نہ ہو جائیں۔سیمینار سے روس، چین اور امریکا کے مندوبین نے بھی خطاب کیا۔

روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ بھارت کا پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کا بیان عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد ہے، پاکستان کی 90 فیصد سے زائد زراعت دریائی پانی پر منحصر ہے۔ ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ بھارت پانی کے بہائو میں رد و بدل کر کے پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔ روسی ماہر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بالائی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر خطے میں عدم استحکام بڑھا سکتی ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی اور پاکستان کو مغربی دریائوں کے پانی کے استعمال کا حق حاصل ہے جبکہ مستقل انڈس کمیشن تنازعات کے حل کا ایک اہم اور موثر فورم ہے۔ ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ اپنی پائیداری کے باعث بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر سراہا جاتا ہے۔

انہوں نے بھارتی اقدامات کے بعد پاکستانی پالیسی سازوں کے ذمہ دارانہ رویے کو سراہا خصوصا اس تناظر میں کہ جب بھارتی اعلی حکام کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات سامنے آئے۔ امریکا سے تعلق رکھنے والی مصنفہ اور عالمی پالیسی ماہر لوری واٹکنز نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبی اعداد و شمار روکنا اور دریائوں کے غیر معمولی بہائو کے بارے میں پاکستان کی تحریری مراسلوں کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ بیجنگ میں سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گائو نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی معطلی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک درمیانی بہائو والا ملک ہے کیونکہ اگرچہ وہ پاکستان کیلئے بالائی کنارے والا ملک ہے لیکن چین کیلئے زیریں کنارے والا ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر دبائو ڈالنے کی بھارتی کوششوں کو چین روک سکتا ہے۔ اپنے اختتامی کلمات میں آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے کہا کہ پائیدار امن صرف بین الاقوامی قانون کے احترام، بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری اور ان اداروں کی قدر کے ذریعے ہی ممکن ہے جو ممالک کو اپنے اختلافات پرامن طریقے سے حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیرپا آبی تحفظ صرف دستیاب پانی کی مقدار پر نہیں بلکہ یقین دہانی، شفافیت، پیش بینی اور تعاون پر بھی منحصر ہے، لہذا آگے بڑھنے کا واحد راستہ سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح اور متن دونوں کے مطابق مکمل عمل درآمد ہے۔