سینیٹ ہاؤس کمیٹی کا اجلاس، 104 نئے پارلیمنٹ لاجز کی بروقت تکمیل اور شفاف آڈٹ کی ہدایت

اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیرِ صدارت سینیٹ ہاؤس کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سینیٹر عطاء الرحمٰن، سینیٹر بلال احمد خان، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر جان محمد، سینیٹر کامل علی آغا، سینیٹر نسیمہ احسان، سینیٹر ناصر محمود اور سینیٹر پونجو بھیل نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خزانہ، وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی …

اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیرِ صدارت سینیٹ ہاؤس کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سینیٹر عطاء الرحمٰن، سینیٹر بلال احمد خان، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر جان محمد، سینیٹر کامل علی آغا، سینیٹر نسیمہ احسان، سینیٹر ناصر محمود اور سینیٹر پونجو بھیل نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خزانہ، وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سینئر حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے آغاز میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے متعلقہ وزارتوں کی جانب سے اعلیٰ سطح کی نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں تمام متعلقہ وزارتیں سینئر سطح کے افسران کی شرکت کو یقینی بنائیں۔

اجلاس میں سینیٹ ہاؤس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔ کمیٹی اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز کے 104 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر، پارلیمنٹ لاجز اور گورنمنٹ ہاسٹل کی مرمت و دیکھ بھال کے کاموں کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور سول و الیکٹریکل تعمیراتی کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں تاہم اراکین نے باقی ماندہ کاموں کی رفتار اور معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ منصوبہ ستمبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔کمیٹی نے 104 نئے پارلیمنٹ لاجز کی مجوزہ الاٹمنٹ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور سینیٹ اور قومی اسمبلی کے درمیان موجودہ تقسیم کے تناسب کی بنیاد پر سوالات اٹھائے۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ نئے تعمیر شدہ لاجز سینیٹرز کو الاٹ کئے جائیں اور اس معاملے کو دونوں ایوانوں کی قیادت کے باہمی مشاورت سے حل کیا جائے۔منصوبے کے تعمیراتی معیار اور پیشرفت کا آزادانہ جائزہ لینے کے لئے سینیٹر کامل علی آغا، سینیٹر ناصر محمود اور سینیٹر ہدایت اللہ خان پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جو منصوبے کا معائنہ کرکے اپنی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔

کمیٹی نے سینیٹر عطاء الرحمٰن کی جانب سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد تعمیر کئے گئے گیسٹ روم کے انہدام کے معاملے پر بھی غور کیا۔ کمیٹی نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ اس واقعہ سے متعلق مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے جبکہ تصدیق کے بعد سینیٹر کی جانب سے کئے گئے اخراجات کی واپسی کی بھی سفارش کی گئی۔رواں مالی سال کے بجٹ کی فراہمی اور اخراجات کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے مرمت و دیکھ بھال کے کام شفاف طریقہ کار کے تحت آؤٹ سورس کرنے کی سفارش کی تاکہ معیار اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے۔

کمیٹی نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ پارلیمنٹ لاجز پر ہونے والے اخراجات کی لاج وار تفصیلات پندرہ روز کے اندر فراہم کی جائیں۔ مزید برآں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مرمت و دیکھ بھال کے کاموں کا خصوصی آڈٹ کرانے اور پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا فرانزک آڈٹ کرانے کی بھی سفارش کی گئی۔اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز کی سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ لاجز میں سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، سی سی ٹی وی نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہے اور سیف سٹی کے ذریعے بھی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ آوارہ کتوں کے داخلے کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں اور اراکینِ پارلیمنٹ اور ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، عوامی وسائل کے شفاف استعمال، مرمت و دیکھ بھال کے اعلیٰ معیار، معیاری بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور اراکینِ پارلیمنٹ کے لئے رہائشی و سکیورٹی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لئے سینیٹ ہاؤس کمیٹی اپنا مؤثر کردار جاری رکھے گی۔