مکہ مکرمہ میں برقع الجنیہات ،آج بھی علاقے کے تاریخی ورثے اور ثقافتی شناخت کا عکاس

عالم اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ میں برقع الجنیہات (یعنی خواتین کا سکوں سے مزین نقاب)آج بھی علاقے کے تاریخی ورثے، ثقافتی شناخت اور مقامی روایات کی نمایاں عکاسی کرتا ہے

مکہ مکرمہ ۔1جولائی (اے پی پی):عالم اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ میں برقع الجنیہات (یعنی خواتین کا سکوں سے مزین نقاب)آج بھی علاقے کے تاریخی ورثے، ثقافتی شناخت اور مقامی روایات کی نمایاں عکاسی کرتا ہے۔سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق اس کی تیاری کے لیے عام طور پر قیمتی سیاہ یا سرخ کپڑے کا استعمال ہوتا ہے جس میں آنکھوں کے مقام کو کھلا رکھا جاتا ہے جبکہ اس کے اگلے حصے کو سونے یا چاندی کے سکوں کے ساتھ نفاست سے سجایا جاتا ہے۔سکوں سے مزین کیے جانے کے باعث اسے ’برقع الجنیہات‘ کا نام دیا گیا اور اسی نام سے اس کی شناخت ہوتی ہے۔ لگائے جانے والے سونے یا چاندی کے سکے محض آرائشی اور زیبائش کے لیے نہیں تھے بلکہ یہ ان خواتین کی بچت اور ذاتی استعمال کے زیوارت تھے جس کا استعمال کسی اہم تقریب میں کیا جاتا تھا۔بعد ازاں برقع الجنیہات کو سماجی حیثیت، مالی خوشحالی اور خوبصورتی کی علامت بنا دیا گیا جسے پہن کر تقریب میں شرکت کرنے والی خواتین کے سٹیٹس کا پتہ چلتا۔یہ ماضی میں مکہ مکرمہ کے روایتی لباس میں شامل ہوا کرتا تھا جس سے ان خواتین کی مالی حیثیت اور معاشرتی اقدار کی عکاسی ہوتی تھی،شہر کے کاریگر اسے تیار کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ سکوں کو اس مہارت سے لگایا کرتے تھے کہ ان کا توازن برقرار اور نمایاں رہے۔آج بھی ایسے خاندان موجود ہیں جن کے پاس ماضی کی یہ یادگار نسل در نسل محفوظ چلی آ رہی ہے جو ایک قیمتی اور گراں قدر ثقافتی ورثہ مانا جاتا ہے۔اگرچہ فی زمانہ اس طرز کے نقاب کا استعمال متروک ہو چکا ہے تاہم برقع الجیہات ٓآج بھی ثقافتی فیسٹیول اور پروگرام میں نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے جس سے مکہ مکرمہ کے تاریخی ملبوسات کی قومی شناخت کی عکاسی ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے ایسے تاریخی نوادر کو دستاویزی شکل دینے اور محفوظ کرنے سے ثقافتی ورثے کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے ساتھ قومی شناحت کے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔