سپریم کورٹ نے 71 سال بعد دو بہنوں کو قانون اور شریعت کے مطابق وراثت میں حصہ دینے کا حکم دے دیا

سپریم کورٹ نے خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کرنے کے خلاف اہم فیصلہ دیتے ہوئے 71 سال بعد دو بہنوں کو قانون اور شریعت کے مطابق وراثت میں حصہ دینے کا حکم دے دیا۔

لاہور۔1جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کرنے کے خلاف اہم فیصلہ دیتے ہوئے 71 سال بعد دو بہنوں کو قانون اور شریعت کے مطابق وراثت میں حصہ دینے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ زبانی ہبہ (تحفہ) ثابت کرنے کا بوجھ اس فریق پر ہوگا جو اس سے فائدہ اٹھا رہا ہو۔ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نور محمد کی اپیل منظور کرتے ہوئے 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے سول کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے وہ تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے جن میں زبانی ہبے کو درست قرار دے کر بہنوں اور والدہ کو وراثت سے محروم رکھا گیا تھا، جبکہ ریونیو حکام کو جائیداد کا ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کا حکم بھی دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی مہربانی یا صوابدید نہیں بلکہ خواتین کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی خودبخود تمام وارثوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ نجی معاہدوں، خاندانی دبا ئویا رسم و رواج کے ذریعے خواتین کو اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے جعلی ہبہ، جعلی انتقال یا کسی بھی قسم کی جعلسازی اور فراڈ ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، جبکہ عدالتوں کو ایسی ہر ٹرانزیکشن کا انتہائی احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں اور انہیں صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کا حصہ ملنا چاہیے۔

فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ 1955 میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے زبانی ہبے کا موقف اختیار کرتے ہوئے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی، جبکہ والدہ اور بہنوں کو وراثت سے محروم کر دیا گیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ ماتحت عدالتوں نے زبانی ہبے کو درست تسلیم کیا، تاہم انہوں نے بارِ ثبوت کے اصول کو نظر انداز کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ اس فریق پر ہوگی جو اس سے فائدہ حاصل کر رہا ہو، جبکہ ٹرائل کورٹ نے اس قانونی اصول کے برعکس خود ہبے کو ہی ثبوت تصور کر لیا، جو قانون کے منافی تھا۔ عدالت نے تاخیر سے دعوی دائر کرنے کا اعتراض بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس بنیاد پر خواتین کو ان کے قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے اور متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔