پاکستان کی اصل طاقت ایٹم بم نہیں نوجوان نسل ہے، نوجوانوں پر سرمایہ کاری ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال کا اوورسیز پاکستانیز سمر سکالرز پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب

پاکستان کی اصل طاقت ایٹم بم نہیں نوجوان نسل ہے، نوجوانوں پر سرمایہ کاری ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال کا اوورسیز پاکستانیز سمر سکالرز پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ اس کی باصلاحیت نوجوان نسل ہے، قوموں کی حقیقی ترقی معدنی وسائل سے نہیں بلکہ انسانی وسائل، معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور پالیسیوں کے تسلسل سے وابستہ ہوتی ہے،مستقبل انہی قوموں کا ہوتا ہے جو اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔انہوں نے یہ بات بدھ کو یہاں اڑان پاکستان ’’مٹی کی پکار‘‘ اوورسیز پاکستانیز سمر سکالرز پروگرام 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پروگرام کے لیے دنیا کے 54 ممالک سے تقریباً دو ہزاردرخواستیں موصول ہوئیں، انتہائی شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخابی عمل کے بعد دنیا کی 150 ممتاز جامعات سے تعلق رکھنے والے 45 غیر معمولی اوورسیز پاکستانی طلبہ و طالبات کو منتخب کیا گیا،وفاقی وزیرنے منتخب سکالرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سخت اور شفاف مقابلے سے گزر کر اس مقام تک پہنچے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ دو ماہ پر مشتمل یہ پروگرام اوورسیز پاکستانی طلبہ و طالبات کو پاکستان کے مختلف قومی اداروں میں عملی تجربہ حاصل کرنے، پالیسی سازی کے عمل کو قریب سے سمجھنے اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا منفرد موقع فراہم کرے گا،اس سال پروگرام کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ پاکستانی طلبہ کے ساتھ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے تین غیر ملکی سکالرز بھی شریک ہیں جو اس پروگرام کی بین الاقوامی اہمیت اور بڑھتی ہوئی عالمی پذیرائی کا واضح ثبوت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران یہ نوجوان وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی سینئر قیادت کے ساتھ مل کر اڑان پاکستان کے فائیو ایز فریم ورک یعنی برآمدات، توانائی، ماحولیات، ای پاکستان اور مساوات و بااختیار بنانا کے تحت قومی ترقی کے مختلف شعبوں میں اپنی اختراعی سوچ، عالمی تجربات اور نئی تجاویز سے پالیسی سازی کے عمل کو تقویت دیں گے تاکہ علم کو عملی قومی حل میں تبدیل کیا جا سکے۔

وفاقی وزیرنے کہاکہ ان کا سب سے اہم مشن پاکستان کے نوجوانوں کی تعمیر ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی کامیابی کا راز اس کے قدرتی وسائل میں نہیں بلکہ اس کے انسانی وسائل، تعلیم اور مہارتوں میں پوشیدہ ہوتا ہے،جب بھی مسلم لیگ (ن) کو ملک کی خدمت کا موقع ملا، نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور عالمی معیار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح رہی،مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک کو توانائی بحران اور دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز سے نکالا، جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے تاریخی منصوبوں کا آغاز کیا اور نوجوانوں کو بہتر تعلیم، مہارتوں اور ترقی کے نئے مواقع فراہم کیے۔

انہوں نے کہا کہ 2017ء میں عالمی ادارے پرائس واٹر ہائوس کوپرز نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر پاکستان ترقی کی اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو 2030ء تک دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا، لیکن بعد ازاں ایک مصنوعی سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا اور ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچ گیا، 2022ء میں جب موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو پاکستان انتہائی مشکل معاشی صورتحال سے دوچار تھا، مگر حکومت نے اپنی سیاست سے زیادہ ریاست کو بچانے کو ترجیح دی اور سخت ترین فیصلے کرتے ہوئے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا،آج دنیا پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکلنے والی ایک کامیاب معیشت کے طور پر دیکھ رہی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی بحالی کو سراہا جا رہا ہے۔وفاقی وزیرنے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل، معدنی ذخائر اور محنتی افرادی قوت سے نوازا ہے، لیکن امن و استحکام کا فقدان، پالیسیوں میں عدم تسلسل، سیاسی عدم استحکام اور مسلسل اصلاحات کی کمی وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے قومی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے ریاست پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم، بہترین صحت، جدید مہارتیں اور باعزت روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، پاکستان نے حالیہ عرصے میں سفارتی محاذ پر تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ اب سفارتی کامیابیوں کے بعد اصل معرکہ معاشی ترقی کا ہے جسے جیتنے کے لیے نوجوان نسل کو ہر ممکن سہولت اور مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آج یہ نوجوان دنیا کی ممتاز جامعات میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں اور درحقیقت پاکستان کے سفیر ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد انہیں قومی ترقی کے عمل سے جوڑنا، حکومتی نظام سے روشناس کرانا اور ایسا عملی تجربہ فراہم کرنا ہے جو ان کے مستقبل میں موثر کردار ادا کرے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھی سفارشات ارسال کی ہیں تاکہ ملکی جامعات کے نصاب کو جدید دور کے تقاضوں، ٹیکنالوجی اور عالمی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے تاکہ نوجوانوں کی تعلیم براہِ راست قومی ترقی اور روزگار سے منسلک ہو۔ احسن اقبال نے سکالرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کے تجربہ کار افسران کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ مختلف شعبوں میں قیمتی تجربات حاصل کریں گے۔ اگرچہ یہ پروگرام مختصر مدت پر مشتمل ہے تاہم وہ ان چھ ہفتوں کو اپنی زندگی کا یادگار اور نتیجہ خیز تجربہ بنائیں، مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں اور ہمیشہ اس جذبے کے ساتھ کام کریں کہ انہوں نے اپنے وطن پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا موثر کردار ادا کرنا ہے۔