قومی پیغامِ امن کمیٹی مذہبی رواداری،بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،طاہر محمود اشرفی
قومی پیغامِ امن کمیٹی مذہبی رواداری،بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،طاہر محمود اشرفی

مزید خبریں
لاہور۔2جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی و چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی ملک بھر میں امن، مذہبی رواداری، بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور انتہا پسندی و فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے اپنا کردار مزید موثر انداز میں جاری رکھے گی،نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی،محرم الحرام کے دوران ملک بھر خصوصا پنجاب میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اطمینان بخش رہی اور قومی پیغامِ امن کمیٹی، وفاقی و صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، علما کرام اور تمام مکاتب فکر کے تعاون سے ہم آہنگی قائم رہی جس پر سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ممبران اور صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران موصول ہونے والی شکایات انتہائی محدود رہیں جن میں بیشتر کا تعلق سوشل میڈیا سے تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو امن کا گہوارہ بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور فساد پھیلانے والا خواہ کسی بھی مسلک یا جماعت سے تعلق رکھتا ہو، اس کیخلاف قانون حرکت میں آئے گا۔انہوں نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی مختلف مسالک اور مذاہب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اتحاد و یکجہتی کا پیغام دے رہی ہے۔
انہوں نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں بین المذاہب و بین المسالک اجتماع اور جامعہ الرشید کراچی کی جانب سے مختلف مذاہب و مسالک کو مشترکہ دعوت دینے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور دشمن عناصر ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کریں گے،تاہم قومی اتحاد سے ان سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ حکومت پنجاب قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال کی خود نگرانی کی اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کی جا رہی ہے،سوشل میڈیا کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور قانون شکنی کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ربیع الاول کے دوران بھی امن و امان برقرار رکھنے کیلئے علما کرام،انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر جامع حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکھ یاتری جب پاکستان آتے ہیں تو بھارت میں ان کو ڈرایا جاتا ہے لیکن یہاں پاکستان آکر وہ جو محبت اور مہمان نوازی دیکھتے ہیں تو واپسی میں ان کی آنکھیں نم ہوتی ہیں اور یہاں سے مثبت پیغام لے کر جاتے ہیں۔اس موقع پر کمیٹی کے دیگر ممبران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران قومی پیغامِ امن کمیٹی نے موثر کردار ادا کیا جبکہ حکومت پنجاب کے اقدامات قابل تعریف رہے،معرکہ حق میں افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی امن کے فروغ میں بھی مثبت کردار ادا کر رہا ہے،وزارت مذہبی امور،وزارت داخلہ اور حکومت پنجاب کی خصوصی توجہ سے محرم الحرام پرامن رہا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر فرقہ واریت اور جھوٹی خبروں کے ذریعے انتشار پھیلانا چاہتے ہیں،اس لیے عوام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں،قومی پیغامِ امن کمیٹی نے ملک کے چاروں صوبوں میں فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جس طرح محرم الحرام پرامن گزرا اسی طرح ربیع الاول بھی امن و محبت کے ماحول میں منایا جائے گا۔ہندو برادری کے نمائندے رمیش کمار نے کہا کہ مختلف مذاہب کے نمائندوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا پاکستان کے مثبت تشخص کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ملک تمام شہریوں کا مشترکہ وطن ہے۔
بشپ کامران نے کہا کہ پاکستان میں مختلف مذاہب کے لوگ امن و احترام کے ساتھ رہ رہے ہیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر قومی یکجہتی کا اظہار کیا اور پاکستان کے استحکام، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر "پاکستان زندہ باد” اور "افواج پاکستان زندہ باد” کے نعرے بھی لگائے گئے۔








