عالمی بینک نے کہا ہے کہ مالی وفاقیت کو مضبوط بنانے سے پاکستان کی معاشی استحکام اور عوامی خدمات میں بہتری ممکن ہے۔ یہ بات عالمی بینک کی جانب سے ” پاکستان میں مالی وفاقیت کو مضبوط بنانا “ کے موضوع پرجاری رپورٹ میں کہی گئی ہے
مالی وفاقیت کو مضبوط بنانے سے پاکستان کی معاشی استحکام اور عوامی خدمات میں بہتری ممکن ہے، عالمی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد۔3جولائی (اے پی پی):عالمی بینک نے کہا ہے کہ مالی وفاقیت کو مضبوط بنانے سے پاکستان کی معاشی استحکام اور عوامی خدمات میں بہتری ممکن ہے۔ یہ بات عالمی بینک کی جانب سے ” پاکستان میں مالی وفاقیت کو مضبوط بنانا “ کے موضوع پرجاری رپورٹ میں کہی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حکومت کی تینوں سطحوں ،وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ اور موثر تقسیم کو مضبوط بنانا معاشی استحکام برقرار رکھنے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2010ء کی تاریخی اصلاحات، یعنی آئین کی اٹھارہویں ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ مالی وفاقیت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت تھیں ان اصلاحات کے تحت عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق متعدد اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں اور ان کے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا تاہم، مالیاتی نظام کی بعض ساختی کمزوریاں اب بھی مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوام تک معیاری خدمات کی موثر فراہمی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ 2010ء سے 2024ءکے دوران صوبائی آمدنی مجموعی قومی پیداوار کے 4 فیصد سے بڑھ کر اوسطاً 6.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ مزید برآں پانچ مختلف دائرہ اختیار میں ٹیکس نظام کی تقسیم سے ٹیکس دہندگان پر عمل درآمد کی لاگت بڑھی اور محصولات میں اضافے کی گنجائش محدود ہوئی۔ دوسری جانب، زرعی شعبہ، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگاباز ر نے بتایا کہ پاکستان نے 2010ء میں اختیارات کو عوام کے قریب منتقل کرکے ایک تاریخی قدم اٹھایا، تاہم اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے مکمل فوائد ابھی حاصل ہونا باقی ہیں، مالی وسائل کو ذمہ داریوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وسائل سکولوں، صحت کے مراکز اور مقامی برادریوں تک موثر انداز میں پہنچیں، پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنے اور بہتر عوامی خدمات فراہم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے باوجود اب تکسرکاری اخراجات کو حقیقی ضروریات سے موثر طور پر ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا موجودہ فارمولا نہ تو مالی ضروریات کی مکمل عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی صوبوں کو اپنی آمدنی بڑھانے اور خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے موثر ترغیبات فراہم کرتا ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی اخراجات میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ تعلیم اور صحت کے بجائے انتظامی اخراجات پر صرف ہوا، مالی سال 2023ء میں مجموعی صوبائی اخراجات کا 80 فیصد سے زائد حصہ جاری اخراجات کی مد میں استعمال ہوا۔ اسی طرح اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم غربت کی سطح یا عوامی خدمات کی حقیقی ضروریات کو مدنظررکھنے کی بجائے اب بھی تاریخی بنیادوں پر ہوتی ہے، عالمی بینک کے لیڈ کنٹری اکانومسٹ اور رپورٹ کے مرکزی مصنف ٹوبیاس حق نے بتایا کہ مالی وفاقیت کا موجودہ ڈھانچہ اس بات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے کہ آیا بچے فعال سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا نہیں، اور آیا صحت کے مراکز میں ضروری ادویات دستیاب ہیں یا نہیں۔ آئندہ متوقع این ایف سی ایوارڈ اس نظام میں بہتری کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے ایسے صوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے جو اپنی آمدنی بڑھانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مو¿ثر کردار ادا کریں، جبکہ زیادہ وسائل ان علاقوں کو دیے جائیں جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ مخصوص اصلاحاتی پروگرام کی سفارش کرنے کے بجائے مختلف قابلِ عمل اصلاحاتی تجاویز پیش کی گئی ہے جنہیں نئے این ایف سی ایوارڈ اور موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر دیگر اصلاحات کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان تجاویز میں وفاقی مالی وسائل کو ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنا، ملکی محصولات میں اضافہ، مقامی حکومتوں کو زیادہ مستحکم اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل کی فراہمی، اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل ہے۔








