خوفِ ناکامی، پاکستانی نوجوانوں کے لیے بڑھتا ہوا ذہنی چیلنج

خوفِ ناکامی، پاکستانی نوجوانوں کے لیے بڑھتا ہوا ذہنی چیلنج

اسلام آباد۔5جولائی (اے پی پی):پاکستان میں نوجوانوں کے لیے خوفِ ناکامی ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ تعلیم، ملازمت اور ذاتی زندگی میں بہت سے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ ایک غلط فیصلہ یا امتحان میں ناکامی ان کے پورے مستقبل کاتعین کر دے گی۔ یہ سوچ ذہنی دباؤ، خود اعتمادی میں کمی اور حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے جبکہ غلطیوں کو سیکھنے کا موقع سمجھنے کے بجائے انہیں اپنی نااہلی کا ثبوت تصور کیا جاتا ہے۔اسلام آباد میں خدمات انجام دینے والی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر زینب نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب نوجوانوں کو یہ سکھایا جائے کہ ان کی قدر صرف کامیابی سے وابستہ ہے تو ناکامی سیکھنے کے بجائے خوف کی علامت بن جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدید خوفِ ناکامی بے چینی، ڈپریشن اور جذباتی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے بروقت نفسیاتی معاونت ضروری ہے۔کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر کاظمی نے کہا کہ جن معاشروں میں ناکامی کو بدنامی سمجھا جاتا ہے وہاں نوجوان نئے مواقع آزمانے، مثبت خطرات مول لینے اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناکامی کو ذاتی شکست کے بجائے سیکھنے کے عمل کا حصہ سمجھنا ذہنی مضبوطی اور جذباتی صحت کے لیے ضروری ہے۔کامسیٹس یونیورسٹی کی طالبہ ثمرہ بتول نے بتایا کہ امتحانات میں ناکامی کا خوف انہیں اکثر رات بھر جاگنے پر مجبور کر دیتا ہے کیونکہ تعلیم میں تاخیر ان کے خاندان پر اضافی مالی بوجھ ڈال سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مناسب حد تک خوف انسان کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور محنت پر آمادہ کرتا ہے بشرطیکہ وہ ذہنی صحت کو متاثر نہ کرے۔

دوسری جانب پاکستان کی ایک معروف کمپنی کے ہیومن ریسورس منیجر کا کہنا تھا کہ آجر مکمل ریکارڈ سے زیادہ ان افراد کو اہمیت دیتے ہیں جو مشکلات کا سامنا کرکے سیکھتے اور آگے بڑھتے ہیں۔ ان کے مطابق ثابت قدمی اور حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت کامیابی کے مسلسل ریکارڈ سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔معاشرے میں افراد کو اکثر ان کی کامیابی، پیشہ اور مالی حیثیت کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے، جس کے باعث نوجوان تنقید، مایوسی اور شرمندگی کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے بھی اس دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جہاں روزانہ کامیابیوں سے بھرپور پوسٹس نوجوانوں کو دوسروں سے غیر ضروری موازنہ کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔خوفِ ناکامی صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ ملازمت کےانتخاب، انٹرویوز، کاروبار،تعلقات اور سماجی میل جول میں بھی نوجوانوں کو متاثر کرتا ہے۔

جلد کامیاب ہونے کی معاشرتی توقع انہیں نئے راستے اختیار کرنے، کاروبار شروع کرنے یا اپنی رائے کے اظہار سے بھی ہچکچانے پر مجبور کرتی ہے۔خصوصاً ایم ڈی کیٹ، انجینئرنگ کے داخلہ امتحانات اور یونیورسٹی میں داخلے کے امیدوار شدید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ (PILL) کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد تعلیمی اور پیشہ ورانہ خدشات کے باعث شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا سامنا کرتی ہے جبکہ ماہرینِ نفسیات بھی تعلیمی دباؤ کو نوجوانوں کے لیے ایک بڑا ذہنی چیلنج قرار دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس مسئلے کی ذمہ داری والدین، تعلیمی اداروں، معاشرے اور میڈیا سب پر عائد ہوتی ہے۔

والدین غیر ارادی طور پر بچوں سے غیر معمولی نتائج کی توقع یا دوسروں سے موازنہ کرکے دباؤ بڑھاتے ہیں، تعلیمی ادارے تخلیقی صلاحیتوں اور ذہنی صحت کے بجائے صرف نمبروں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ میڈیا اکثر کامیابی کو نمایاں کرتا ہے مگر اس کے پیچھے موجود جدوجہد اور ناکامیوں کو نظرانداز کر دیتا ہے۔پاکستان میں تعلیمی دباؤ سے جڑے کئی افسوسناک واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔2015 میں کراچی کی ہمدرد یونیورسٹی کے آخری سال کے طالب علم عبدالباسط امتحان میں تاخیر سے پہنچنے پر امتحان دینے کی اجازت نہ ملنے کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئےجس نے طلبہ پر تعلیمی دباؤ کے حوالے سے قومی سطح پر بحث چھیڑ دی۔ اسی طرح 2018 میں چترال میں انٹرمیڈیٹ کے نتائج کے بعد طلبہ کی خودکشی کے متعدد واقعات نے اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ناکامی ان کی صلاحیت یا شخصیت کا پیمانہ نہیں بلکہ سیکھنے، نکھرنے اور مستقبل کی بڑی کامیابیوں کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہر ناکامی دراصل ترقی اور بہتر مستقبل کی طرف بڑھنے کا ایک نیا موقع فراہم کرتی ہے۔

مزید خبریں