افغانستان میں طالبان رجیم تقسیم کا شکار،طالبان کمانڈر قتل، امن وامان کے دعوے زمین بوس

افغان رجیم کے اندرونی خلفشار اور بگڑتی سکیورٹی صورتحال نے طالبان کے نام نہاد امن و استحکام کے بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):افغان رجیم کے اندرونی خلفشار اور بگڑتی سکیورٹی صورتحال نے طالبان کے نام نہاد امن و استحکام کے بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔تفصیلات کے مطابق افغان طالبان رجیم جہاں عوام کو تحفظ دینے میں ناکام رہی وہاں اہم افغان کمانڈرز کو بھی حفاظت فراہم نہ کر سکی،معروف افغان جریدے دی افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق ننگرہار کے ضلع چپرحار میں جمعہ کے روزافغان طالبان کے مقامی کمانڈر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا،افغان طالبان نے کمانڈر کے قتل کے شبہ میں اس کے سگے بھائی کو ہی گرفتار کر لیا۔سرکاری اعلامیے کے مطابق مقتول کمانڈر کی شناخت ‘مسافر’ کے نام سے ہوئی ہے۔افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق مقتول کمانڈر چھٹی گزارنے کے لیے اپنے گھر گیا تھا، جہاں اسے بےدردی سے قتل کر دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق افغان طالبان کمانڈرز پر حملوں کے بڑھتے واقعات داخلی اختلافات، مقامی مزاحمت اور سکیورٹی کی بدترین صورتحال کی عکاس ہے،افغان طالبان رجیم کو بیک وقت اندرونی بغاوت، بڑھتے حملوں اور سکیورٹی بحران جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے،طالبان کمانڈر کی ہلاکت واضح ثبوت ہے کہ طالبان رجیم کیخلاف نفرت اب عوامی سطح پر شدت اختیار کر گئی ہے۔