وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں خاکروبوں (درجہ چہارم) کی 2016ء سے اب تک ہونے والی تمام بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے حکومت کو تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
خیبرپختونخوا میں خاکروبوں کی بھرتیوں کی چھان بین، وفاقی آئینی عدالت نے 2016ء سے تمام ریکارڈ طلب کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں خاکروبوں (درجہ چہارم) کی بھرتیوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے حکومت خیبرپختونخوا کو 2016ء سے اب تک ہونے والی تمام بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ جائزہ لیا جائے گا کہ صوبے میں بھرتیاں قانون اور قواعد کے مطابق کی گئی ہیں یا نہیں۔سماعت منگل کو جسٹس عامر فاروق اور جسٹس حسن اظہر رضوی سمیت بینچ نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پابندی کے باوجود سیاسی مداخلت پر بھرتیاں کی گئیں اور بعض افراد کو ایم پی اے کے خط پر من پسند طریقے سے ملازمت دی گئی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے موقف اختیار کیا کہ جس ایم پی اے کے خط کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ جعلی ہے، اس پر نہ دستخط ہیں، نہ ریفرنس نمبر اور نہ ہی سرکاری مہر۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جعلی کاغذات تو وہ یہاں کمپیوٹر سے بھی نکال سکتے ہیں۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ جعلی کاغذات کم از کم ہمارے سسٹم سے تو نہ نکالیں جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔دوران سماعت یہ بھی انکشاف ہوا کہ خاکروب کی آسامیوں کے لیے ایم اے پاس امیدواروں نے بھی درخواستیں دے رکھی ہیں۔ اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایم اے پاس افراد کو خاکروب بھرتی بھی کر لیا جائے تو وہ صفائی کا کام نہیں کریں گے، ایسے خاکروب تو کلف والے کپڑے پہن کر گھومتے رہتے ہیں جبکہ شہر میں گندگی پڑی رہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک درخواست گزار تو مدرسے کا تعلیم یافتہ ہے جبکہ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث پڑھے لکھے افراد بھی خاکروب کی ملازمت حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ اگر درخواست گزار کا تقرر بھی ہو جاتا تو وہ بھی بھرتیوں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ درجہ چہارم کی ملازمت پر دو افراد کو ایڈجسٹ کر لینے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کی عمریں 47 برس ہو چکی ہیں، اس لیے انہیں عمر میں رعایت دینا قانونی طور پر ممکن نہیں۔عدالت نے حکومت خیبرپختونخوا کو 2016ء سے آج تک خاکروبوں کی تمام بھرتیوں کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔








