قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی سے جمہوریہ کروشیا کے وزیر برائے خارجہ و یورپی امورڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین نے جمعرات کو یہاں ایوانِ صدر میں ملاقات کی۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق قائم مقام صدر نے کروشیا کے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کروشیا کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ دوطرفہ تعلقات میں ایک …
قائم مقام صدرسید یوسف رضا گیلانی سے کروشیا کے وزیر برائے خارجہ امور کی ایوانِ صدر میں ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی سے جمہوریہ کروشیا کے وزیر برائے خارجہ و یورپی امورڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین نے جمعرات کو یہاں ایوانِ صدر میں ملاقات کی۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق قائم مقام صدر نے کروشیا کے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کروشیا کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کروشیا کے ساتھ باہمی احترام اور خیرسگالی پر مبنی دیرینہ دوستی کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے اس اعتماد اظہار کیا کہ یہ دورہ دوطرفہ تعاون کو نئی تحریک فراہم کرے گا۔ قائم مقام صدر نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کروشیا کی نمایاں ترقی کو سراہتے ہوئے یورپی یونین اور نیٹو کے رکن کی حیثیت سے یورپ اور اس سے باہر اس کے اہم کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کروشیا کے ساتھ دوطرفہ سطح پر اور یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کے وسیع تر دائرہ کار میں اپنے روابط کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے۔
پاکستان اور کروشیا کے درمیان تین دہائیوں سے زائد عرصہ قبل قائم ہونے والے سفارتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے دوطرفہ تعلقات کے استحکام کیلئے باقاعدہ اعلیٰ سطح کے روابط اور پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے منتخب نمائندوں کے درمیان مسلسل رابطوں کے فروغ کیلئے پاکستان۔کروشیا پارلیمانی فرینڈ شپ گروپس کے قیام کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے جمہوریہ کروشیا کے صدر زوران میلانووچ کو بھی باہمی طور پر موزوں تاریخوں پر پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔ سید یوسف رضا گیلانی نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی معیشتوں کی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔
انہوں نے پاکستان میں کروشین کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا خیرمقدم کیا جن میں انفوبِپ کی معروف پاکستانی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری اور کونچار کا چشمہ ہائیڈرو پاور منصوبے میں کردار شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات پاکستان میں مزید کروشین سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں گے۔ پاکستان کے سازگار سرمایہ کاری ماحول کو اجاگر کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے کروشین کاروباری اداروں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، زراعت، لائیو سٹاک، فوڈ پراسیسنگ، سیاحت و مہمان نوازی، شہری ترقی اور پانی و فضلہ کے انتظام کے شعبوں میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل غیر ملکی سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور معاونت فراہم کرنے کیلئے ایک موثر طریقہ کار پیش کرتی ہے۔
قائم مقام صدر نے ہنرمند پاکستانی پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت کو آسان بنانے خصوصا تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور مہمان نوازی کے شعبوں کی اہمیت کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی افرادی قوت نے مشرق وسطی، یورپ اور شمالی امریکا کے متعدد ممالک کی ترقی میں قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں قریبی تعاون دونوں ممالک کے باہمی مفادات کے لئے سودمند ثابت ہوگا۔علاقائی روابط کے حوالے سے یوسف رضا گیلانی نے یورپی منڈیوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے کراچی بندرگاہ اور کروشیا کی بندرگاہوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی تجویز دی۔ انہوں نے تعلیم، کھیلوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے آئی ٹی شعبے کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کروشیا پاکستان کی ہنرمند اور مسابقتی ڈیجیٹل افرادی قوت سے فائدہ اٹھائے گا۔ کروشیا کے وزیر خارجہ نے قائم مقام صدر کی جانب سے اپنے اور اپنے وفد کے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کروشیا کے عزم کا اعادہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بہتر سیاسی مکالمہ، پارلیمانی تبادلے اور اقتصادی تعاون دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید گہرا کریں گے۔ دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان۔کروشیا تعلقات کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کیلئے باقاعدہ اعلی سطح کے روابط برقرار رکھنے اور مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں سیکرٹری خارجہ بھی شریک تھیں۔








