’’پاکستان۔روس: تجارت، تعلیم اور توانائی میں تعاون کا فروغ ‘‘ کے زیر عنوان ویبینار کا انعقاد، اعلیٰ سرکاری حکام، سفارتکاروں، کاروباری رہنماؤں اور ماہرین تعلیم کا اظہار خیال

انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) اسلام آباد نے روس کی یونیورسٹی آف ورلڈ سیولائزیشنز (یو ڈبلیو سی ایم) ماسکو کے اشتراک سے جمعرات کو ’’پاکستان۔روس: تجارت، تعلیم اور توانائی میں تعاون کا فروغ‘‘ کے عنوان سے پاکستان-روس ویبینار سیریز کے دوسرے اجلاس کا انعقاد کیا۔

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) اسلام آباد نے روس کی یونیورسٹی آف ورلڈ سیولائزیشنز (یو ڈبلیو سی ایم) ماسکو کے اشتراک سے جمعرات کو ’’پاکستان۔روس: تجارت، تعلیم اور توانائی میں تعاون کا فروغ‘‘ کے عنوان سے پاکستان-روس ویبینار سیریز کے دوسرے اجلاس کا انعقاد کیا۔ویبینار میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سرکاری حکام، سفارتکاروں، کاروباری رہنماؤں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی اور تجارت، صنعتی ترقی، توانائی، تعلیم اور علاقائی روابط کے فروغ کے عملی امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں، جامعات، کاروباری اداروں اور پالیسی ساز حلقوں کے درمیان مسلسل رابطے پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات میں موجود وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لئے ناگزیر ہیں۔

افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے صدر سفیر جوہر سلیم نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں اقتصادی تعاون، ادارہ جاتی شراکت داری اور عوامی روابط دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سطح پر مکالمے کے ساتھ ایسے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں جو دونوں ممالک کے لئے طویل المدتی اقتصادی اور تزویراتی فوائد کا باعث بنیں۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کلیدی خطاب میں کہا کہ پاکستان اپنی بین الاقوامی توانائی شراکت داری کو وسعت دینے کے لئے پرعزم ہے اور روس توانائی کے تحفظ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تکنیکی تعاون اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک اہم شراکت دار ہے۔روسی فیڈریشن کے نائب وزیر صنعت و تجارت الیکسی وی گروزدیف نے پاکستان کے ساتھ صنعتی اور تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یوریشیا میں ابھرنے والے نئے مواقع دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے مثبت سیاسی تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور نجی شعبے کے تعاون میں بھی تبدیل کیا جانا چاہئے۔روسی وزارت خارجہ کے بورس برمسٹروف نے پاکستان کے ساتھ بین الحکومتی تعاون، مختلف شعبوں میں روابط کے فروغ اور علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔پہلے اجلاس کی نظامت ڈاکٹر روکسانا زیگون نے کی جس میں تجارت، ٹرانسپورٹ روابط اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پاکستان-روس بزنس کونسل کے چیئرمین محسن شیخ نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کا تاریخی جائزہ پیش کیا اور بہتر نقل و حمل، اقتصادی راہداریوں کی ترقی اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کی تجاویز دیں۔سی آئی ایس ایس ایس کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سفیر قاضی ایم خلیل اللہ نے توانائی کے شعبے میں طویل المدتی شراکت داری، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، یوریشیائی مال برداری کی جدید سہولتوں اور دونوں ممالک میں یوریشیائی تجارت کے لئے خصوصی نمائندوں کے تقرر کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر پروخور ٹیبن نے عالمی معیشت میں بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئے جغرافیائی و اقتصادی حالات پاکستان اور روس کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر زیگون نے عملی اقدامات پر مبنی ادارہ جاتی مکالمے کی اہمیت اجاگر کی۔دوسرے سیشن کی نظامت ڈاکٹر عثمان ڈبلیو چوہان نے کی جس میں صنعتی ترقی، تعلیم، انسانی وسائل اور مالیاتی تعاون کو دوطرفہ تعلقات کے اہم ستون قرار دیا گیا۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کی ڈاکٹر اسماء نوید نے انسانی وسائل کی ترقی کے لئے مشترکہ منصوبوں، معاشی شعبوں سے متعلق زبانوں کی تربیت، دیرپا ادارہ جاتی روابط اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں روسی زبان کے مراکز قائم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔روسی اکیڈمی آف ایجوکیشن کی ڈاکٹر سویتلانا منیورووا نے پاکستانی اور روسی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تعلیمی تبادلوں اور ادارہ جاتی شراکت داری کے امکانات پر روشنی ڈالی۔

روس کی بزنس کونسل آف کوآپریشن ود پاکستان کے دیمتری انتونوف نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان براہ راست روابط، بینکاری ذرائع، زمینی تجارتی راستوں کی بہتری اور یوریشیائی کثیرالجہتی فورمز سے استفادے کے حوالے سے سفارشات پیش کیں۔ویبینار کے دوران شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی سیاسی و اقتصادی منظرنامے میں تبدیلی پاکستان اور روس کو اقتصادی شراکت داری، علاقائی روابط، تجارت، صنعت، توانائی، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اہم مواقع فراہم کر رہی ہے۔اختتامی سیشن سے خطاب میں سفیر جوہر سلیم نے کہا کہ مباحثوں سے واضح ہوا ہے کہ اب صرف گفت و شنید سے آگے بڑھتے ہوئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط، دیرپا اور ہمہ جہت شراکت داری کے لیے مسلسل رابطے ناگزیر ہیں۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان۔روس ویبینار سیریز دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی مکالمے اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے کو آئندہ بھی جاری رکھنے اور پاکستان و روس کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔