"تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے خاتمے اور خواتین، امن و سلامتی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر مکمل، دیانتدارانہ اور بلاامتیاز عملدرآمد عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔”
تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے لیے قراردادوں پر مکمل عملدرآمد اور سخت احتساب کو یقینی بنایا جائے، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔9جولائی (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ تنازعات کے دوران ہونے والے جنسی تشدد کے خاتمے کے لیے منظور کی گئی قراردادوں خصوصاً خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق قراردادوں پر مکمل، دیانتدارانہ اور بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان قراردادوں میں جنسی تشدد کی روک تھام، متاثرین کے تحفظ، واقعات کی تحقیقات، مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی اور متاثرین کے ازالے سے متعلق واضح ذمہ داریاں طے کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات پر موثر عمل درآمد سلامتی کونسل کے عزم کا حقیقی امتحان ہوگا۔ یہ اجلاس جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں 70 سے زائد ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ برائے تنازعات میں جنسی تشدد پرامیلا پیٹن نے تازہ رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں اقوامِ متحدہ نے تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے 9,788 مصدقہ واقعات ریکارڈ کیے، جو 2024 کے مقابلے میں دوگناسے بھی زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ تنازعات کے دوران جنسی تشدد نہ صرف افراد کی زندگیاں تباہ کرتا ہے بلکہ خاندانوں کو بکھیر دیتا ہے، معاشروں میں خوف پھیلاتا ہے اور آنے والی نسلوں تک اس کے اثرات باقی رہتے ہیں خصوصاً ان بچوں پر جو ایسے جرائم کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے فہرستیں تیار کرنے کے میکانزم میں سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود تمام تنازعات اور غیرملکی قبضے کی صورتحال شامل ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی فریق کو احتساب سے استثنا حاصل نہ ہو۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ مسلسل ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف پابندیوں کے نظام کو موثر انداز میں استعمال کیا جائے،عدالتی نظام کو متاثرین اور بچ جانے والوں کی ضروریات کے مطابق، آسان اور نفسیاتی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا جائے، متاثرین کو بروقت طبی سہولیات، نفسیاتی معاونت، قانونی امداد، روزگار میں مدد اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کے قوانین پر عمل درآمد ، امن عمل میں خواتین کی موثر شمولیت، بروقت انتباہی نظام، مستقل مالی معاونت، ذمہ دارانہ اسلحہ کنٹرول اور تنازعات کی بنیادی وجوہات بشمول غیرملکی قبضے اور حقِ خودارادیت سے انکار کا حل ناگزیر ہے۔ پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل، مخلصانہ اور غیرجانبدارانہ عمل درآمد ہی تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے لیے عالمی عزم کا حقیقی پیمانہ ہوگا۔








