"گندم کے وافر ذخائر، آٹے کی مناسب قیمتوں اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی عوامی ریلیف اور غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔”
صوبائی وزیراورچیف سیکرٹری سند ھ کی زیر صدارت گندم کے ذخائرکے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس

مزید خبریں
کراچی۔ 09 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان اورچیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی مشترکہ زیر صدارت صوبے بھر میں گندم کے ذخائر اور آٹے کی قیمتوں کا جائزہ لینے اور ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ذخائر اور مصنوعی مہنگائی کے خلاف مربوط حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
جمعرات کو جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری خوراک، تمام ڈویژنل کمشنرز، صوبے کے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور محکمہ خوراک کے فیلڈ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ میں گندم اور آٹے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ صوبے میں 290فلور ملز اور 1,033 لائسنس یافتہ گندم ٹریڈرز کام کر رہے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ کابینہ کے فیصلے کے مطابق گندم کے ذخیرہ اندوزوں اور غیر قانونی طور پر گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کی جائے گی۔ مقررہ حد سے زائد گندم کے ذخیرے کو ذخیرہ اندوزی تصور کیا جائے گا اور ایسی گندم حکومت کی جانب سے پہلے سے نوٹیفائیڈ قیمت پر ضبط کی جائے گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ رجسٹرڈ فلور ملز، چکیوں اور لائسنس یافتہ ٹریڈرز کے علاوہ اگر کوئی شخص، فرم یا ادارہ غیر قانونی طور پر گندم کا ذخیرہ رکھنے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی اور ایسی گندم بھی حکومت کی جانب سے نوٹیفائیڈ قیمت پر ضبط کی جائے گی۔چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ خوراک کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف فوری طور پر مربوط کارروائی شروع کریں۔ انہوں نے ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ محکمہ خوراک کی مشاورت سے موثر حکمت عملی تیار کر کے اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ گندم کی ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ذخائر اور مصنوعی قلت کو روکا جا سکے۔چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ حکومت مارکیٹ میں خوف و ہراس پیدا کرنا یا جائز کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈالنا نہیں چاہتی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو بھی گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ناجائز منافع خوری کے ذریعے صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وہ جائز کاروبار کو متاثر نہیں کرنا چاہتے، لیکن گندم کی ذخیرہ اندوزی اور آٹے کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد فلور ملز، چکیوں یا لائسنس یافتہ ٹریڈرز کے لیے مشکلات پیدا کرنا نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزی کو روکنا اور عوام کو مصنوعی مہنگائی سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فلور مل مالکان کے ساتھ علیحدہ اجلاس بھی منعقد کریں گے تاکہ انہیں اعتماد میں لیا جا سکے اور یہ واضح کیا جا سکے کہ حکومت کی کارروائی صرف ذخیرہ اندوزوں اور غیر قانونی اسٹاک رکھنے والوں کے خلاف ہے۔ صوبائی وزیر خوراک نے ہدایت کی کہ اس عمل کو اولین ترجیح دی جائے اور تمام کارروائی قانون کے مطابق مکمل کی جائے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک، ضلعی انتظامیہ اور فیلڈ افسران قریبی رابطے کے ساتھ کام کریں تاکہ مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ اجلاس میں تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کی گئی کارروائی، اسٹاک کی تصدیق، مارکیٹ مانیٹرنگ اور قیمتوں پر عملدرآمد سے متعلق باقاعدہ رپورٹس جمع کرائیں۔







