سعودی عرب کے قصیم ریجن میں انجیر کی کاشت حالیہ برسوں میں کھجور، آڑو، انگور، تربوز اور خربوزے کے ساتھ امید افزا فصل کے طور پر ابھری ہے،مملکت میں اس کی پیداوار 29 ہزار 600 ٹن سے زیادہ ہے۔
سعودی عرب، انجیر امید افزا فصل کے طور پر نمایاں، پیداوار 29 ہزار 600 ہو گئی،حکام

مزید خبریں
ریاض۔10جولائی (اے پی پی):سعودی عرب کے قصیم ریجن میں انجیر کی کاشت حالیہ برسوں میں کھجور، آڑو، انگور، تربوز اور خربوزے کے ساتھ امید افزا فصل کے طور پر ابھری ہے،مملکت میں اس کی پیداوار 29 ہزار 600 ٹن سے زیادہ ہے۔ ایس پی اے کے مطابق قصیم ریجن مملکت میں غذائی تحفظ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،یہاں اس وقت 30 فارمز موجود ہیں جہاں 30 اقسام کی انجیر پیدا کی جا رہی ہے جس میں مقامی اور بین الاقوامی اقسام بھی شامل ہیں۔ ریجن میں انجیر کے ایک لاکھ سے زیادہ درخت ہیں۔ وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کی جانب سے رواں برس موسمِ گرما کے سیزن میں ’حلوہ بموسمھا‘ کے عنوان سے مہم شروع کی گئی ہے جس کے تحت علاقائی موسمی پھلوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔وزارت کا کہنا ہے انجیر کی مقامی سطح پر سالانہ پیداوار 29 ہزار 600 ٹن سے تجاوز کرچکی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق مملکت میں انجیر کے 5 لاکھ 65 ہزار 6 سو سے زائد درخت موجود ہیں۔انجیر کا پھل اعلی غذائی اہمیت، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہونے کے باعث مقبول ہے۔ سعودی عرب کے تمام ریجنز میں انجیر کی کاشت کامیابی سے کی جاتی ہے۔ اس کی معروف اقسام میں ’براون ترکی، بلدی، ہسپانوی زرد، سلطانی اور ہسپانوی سیاہ شامل ہیں۔وزرات کے مطابق انجیر کے متعدد استعمال ہیں، فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری میں بھی اس کی اہمیت ہے، ہیلتھ اینڈ بیوٹی پراڈکس کےعلاوہ جوس اور آئس کریم میں بھی اس کا استعمال کامیابی سے کیا جاتا ہے۔








