بنگلہ دیش میں موسلا دھار بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ، 30 افراد جاں بحق

بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقوں میں مون سون کے دوران موسلا دھار بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور کم از کم 30 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ملک کے جنوب مشرقی حصوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے نقل و حمل کے رابطے منقطع ہوگئے ہیں

ڈھاکہ۔10جولائی (اے پی پی):بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقوں میں مون سون کے دوران موسلا دھار بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور کم از کم 30 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ملک کے جنوب مشرقی حصوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے نقل و حمل کے رابطے منقطع ہوگئے ہیں ، ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید 48 سے 72 گھنٹے کی شدید بارش کے باعث صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات نے آئندہ دو دنوں کے دوران تمام 8 ڈویژنوں میں شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے، چٹاگانگ کے پہاڑی اضلاع میں تازہ لینڈ سلائیڈنگ اور ڈھاکہ اور چٹاگانگ میٹروپولیٹن علاقوں میں عارضی طور پر پانی جمع ہونے کی وارننگ دی ہے۔چٹاگانگ، کاکس بازار، مونگلا اور پائرہ کی سمندری بندرگاہوں کو مقامی احتیاطی سگنل نمبر 3 جاری کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے جبکہ ماہی گیری کی کشتیوں کو ساحل کے قریب رہنے کو کہا گیا ہے۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور ریلیف کے وزیر اسد الحبیب دولو نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ چٹاگانگ، اس کے پہاڑی علاقوں اور کاکس بازار میں مٹی کے تودے گرنے اور بارش سے متعلقہ دیگر واقعات کی وجہ سے گزشتہ چند دنوں میں 30 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں،ان میں کاکس بازار میں 19، چٹاگانگ میں پانچ، بندربن میں پانچ اور رنگا متی کا ایک شخص شامل ہے۔بدترین سانحہ اوکھیا میں کٹوپالونگ روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں پیش آیا جہاں بارش سے بھیگی ہوئی پہاڑی قرآن کی کلاسز کے دوران مدرسے پر گر گئی جس سے آٹھ بچے اور اساتذہ جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔حکام نے جنوب مشرقی علاقوں سے آگے کے لئے بھی سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے ۔ سیلاب کی پیش گوئی اور وارننگ سینٹر نے کہا کہ بنگلہ دیش اور اپ سٹریم ہندوستانی ریاستوں میں شدید بارش آئندہ تین دن کے دوران ندیوں کو خطرے کی سطح سے اوپر لے جا سکتی ہے جس سے بندربن، کاکس بازار، فینی، کھگراچھڑی، سلہٹ، سنم گنج، مولوی بازار، حبیب گنج، نیتروکونا، شیرپور، میمن سنگھاٹ اور رالنگ پور میں سیلاب کا خطرہ ہے،اس کے علاوہ لکشمی پور اور نواکھلی کے نشیبی حصے بھی خطرے میں ہیں۔کئی اہم دریائوں جن میں سانگو، ماتامہوری، تیستا، مانو، کھوئی، سومیشوری اور جاڈوکاٹا شامل ہیں، میں تیزی سے اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ بارش جاری رہنے کی صورت میں کچھ دریائوں کی خطرے کی سطح کو عبور کرنے کی توقع ہے۔طویل بارش نے ٹرانسپورٹ کو شدید متاثر کیا ہے،لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہوں کے کچھ حصے دب جانے کے بعد بندربن کے ساتھ سڑک کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے جبکہ سیلاب نے بندربن-تھانچی سڑک کے کچھ حصے بند کر دیے علاوہ ازیں چٹاگانگ اور کاکس بازار کو ملانے والے راستوں پر بھی سفر میں خلل پڑا ہے۔سیلابی پانی میں ریلوے لائن کے حصے ڈوب جانے کے بعد کاکس بازار جانے والی ریل خدمات بدستور معطل ہیں،رنگاماٹی میں سڑکیں پانی میں جانے سے 561 سیاح وادی سجیک میں پھنس گئے ہیں۔بنگلہ دیش کی فوج نے 150 سیاحوں کے پہلے گروپ کو سیلاب زدہ علاقوں سے لے جا کر بچایا جبکہ 400 سے زیادہ پہاڑی ریزورٹ میں انخلا کے منتظر ہیں۔سیلابی پانی نے نواکھلی کے ساحلی پٹی کو بھی ڈبو دیا ہے جہاں سمندری طوفان نے گھروں، سڑکوں، فصلوں کے کھیتوں اور مچھلیوں کے تالاب کو زیرِ آب کر دیا ہے جس سے بہت سے خاندان دنوں تک کھانا پکانے کے قابل نہیں رہے۔مولوی بازار کے کمل گنج میں دریائے ڈھلائی پر ایک بند ٹوٹنے سے کم از کم 25 دیہات میں سیلاب آنے سے سڑکوں کے رابطے منقطع ہونے ، سکولوں اور کھیتوں میں پانی آنے کے بعد تقریباً 10,000 لوگ پھنس گئے۔حکام نے کمزور پہاڑی اضلاع میں انخلا کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔چٹاگانگ کے حکام نے ایگزیکٹیو مجسٹریٹس، لینڈ آفیشلز اور تقریباً 150 رضاکاروں کو 26 انتہائی خطرے والی پہاڑیوں سے رہائشیوں کو منتقل کرنے کے لیے تعینات کیا ہے جبکہ رنگا متی نے لینڈ سلائیڈ کے شکار 39 مقامات پر 19 پناہ گاہیں کھولی ہیں۔اسی طرح کی انخلا کی مہمیں کھاگرا چھڑی اور بندربن میں جاری ہیں جہاں حکام نے رہائشیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ نقل مکانی کے احکامات کو نظر انداز نہ کریں۔حکومت کا کہنا ہے کہ متاثرہ اضلاع میں سینکڑوں پناہ گاہیں کھول دی گئی ہیں جن میں خوراک، پینے کا پانی اور ہنگامی امداد تقسیم کی جا رہی ہے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ منسٹری کے مطابق وزیر اعظم کے ریلیف فنڈ سے ہر ضلعے کے لیے فنڈز ہنگامی طور پر مختص کیے گئے ہیں جبکہ حالات خراب ہونے پر اضافی مدد کا وعدہ کیا گیا ہے۔پیش گوئی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر حصوں میں تازہ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور پانی جمع ہونے کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے مون سون کم از کم دو دن فعال رہنے کی توقع ہے۔