اقوام متحدہ کا کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے عالمی کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرنا ہوں گی۔

نیویارک۔10جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرنا ہوں گی۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام نے اقوام متحدہ کے نیوز سینٹر کے حوالے سے بتایا کہ ٹام فلیچر نے خبردار کیا کہ اگرچہ صوبہ اِیتوری اب بھی وبا کا مرکز ہے ، تاہم تنازعات اور نقل مکانی کے باعث وائرس دیگر صوبوں تک بھی پھیل رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق 15 مئی کو ایبولا کے پھیلاؤ کے اعلان کے بعد سے بنڈی بوجیو قسم کے وائرس سے ڈی آر سی میں 1,700 سے زائد افراد متاثر اور 600 ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی 20 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

وبا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ نے مئی میں60ملین ڈالر تک کے ہنگامی فنڈز جاری کیے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت نے ڈی آر سی میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے تعاون سے متاثرہ علاقوں کو طبی سامان فراہم کرنے اور آئسولیشن و علاج کے مراکز قائم کرنے میں مدد دی۔ٹام فلیچر نے انسانی امدادی پروگراموں کی حمایت اور وباؤں سے نمٹنے کی تیاریوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایبولا کے خلاف موثر دفاع کے لیے نگرانی، لیبارٹری ٹیسٹنگ، مریضوں کی بروقت منتقلی، انفیکشن سے بچاؤ اور کنٹرول اور مقامی آبادی کی شمولیت انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایبولا پر قابو پانے کے لیے مقامی قیادت میں کمیونٹی پر مبنی اور مرد و خواتین دونوں کی ضروریات کے مطابق حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔ ٹام فلیچر نے خبردار کیا کہ کسی بھی تاخیر کی قیمت ایبولا سے ہونے والی مزید اموات اور اس وبا کے وسیع تر انسانی اثرات کی صورت میں چکانا پڑے گی۔