گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو کے پولیو اوور سائٹ بورڈ کے اعلیٰ سطحی وفد نے رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کیا اور عالمی اور علاقائی سطح پر پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو کے پولیو اوور سائٹ بورڈ کے وفد کا پاکستان کا دورہ ، پولیو کے خاتمے کی کوششوں پر حکومتِ کی مضبوط نگرانی اور مؤثر قیادت کو سراہا

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو کے پولیو اوور سائٹ بورڈ کے اعلیٰ سطحی وفد نے رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کیا اور عالمی اور علاقائی سطح پر پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقاتوں کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ پولیو وائرس کا دائرہ مزید محدود ہو چکا ہے اور اب یہ بنیادی طور پر جنوبی خیبر پختونخوا کے چند علاقوں تک محدود رہ گیا ہے۔ وفد نے اس بات سے اتفاق کیا کہ آئندہ چھ ماہ پاکستان اور دنیا بھر سے پولیو کے مکمل خاتمے کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
1994 سے اب تک طبی سائنس میں ہونے والی پیش رفت اور جان بچانے والی ویکسینز کی بدولت پاکستان میں پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی آ چکی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں، جب سالانہ تقریباً 20,000 پولیو کیسز رپورٹ ہوتے تھے، یہ تعداد 2025 میں کم ہو کر 31 اور 2026 میں اب تک صرف 3 کیسز تک محدود رہ گئی ہے۔وفد کے اراکین نے پولیو کے خاتمے کی کوششوں پر حکومتِ پاکستان کی مضبوط نگرانی اور مؤثر قیادت کو سراہا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے انسدادِ پولیو پروگرام کے لیے عالمی برادری کی حمایت اور اعتماد بدستور مضبوط ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لیے دستیاب مالی وسائل میں کمی کے باعث دنیا کے پولیو سے متاثرہ آخری دو ممالک، پاکستان اور افغانستان، میں پولیو وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے دستیاب مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
اس تناظر میں وفد نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران حاصل کی گئی اہم کامیابیوں کے تحفظ کے لیے پولیو کے خاتمے میں سرمایہ کاری کو برقرار رکھنے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال اور وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے اسلام آباد میں وفد سے ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ وفد نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور پاک فوج کے انجینئر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل کاشف نذیر سے بھی ملاقات کی۔
وفد کی قیادت پولیو اوور سائٹ بورڈ اور روٹری انٹرنیشنل پولیو پلس کمیٹی کے چیئرمین مائیک میک گورن نے کی۔ وفد میں عالمی ادارہ صحت کے مشرقی بحیرۂ روم کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی، یونیسیف کے ایشیا پیسیفک ریجنل ڈائریکٹر سنجے وجے سیکرا، گیٹس فاؤنڈیشن کے گلوبل ڈویلپمنٹ کے صدر ڈاکٹر کرس ایلائس، امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی پولیو ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر اوموتایو بولو، گاوی، دی ویکسین الائنس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ثانیہ نشتر، اور کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے سینئر مشیر ڈاکٹر زیاد میمش شامل تھے۔پولیو اوور سائٹ بورڈ ، گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز اور نگرانی کا ادارہ ہے، جو عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لیے قومی حکومتوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ ہر بچے کو اس مہلک بیماری سے محفوظ بنایا جا سکے، جس کا کوئی علاج موجود نہیں، تاہم اسے ویکسین کے ذریعے مؤثر طور پر روکا جا سکتا ہے۔وفد سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان میں سائنس پر مبنی انسدادِ پولیو کی کوششوں کے لیے پی او بی اور جی پی ای آئی کے شراکت داروں اور ڈونرز کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان کے بچوں کو پولیو سے بچانے اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ اپنی مشترکہ کوششوں میں مزید تیزی لائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جنوبی خیبر پختونخوا کے پولیو سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے لیے مؤثر حکمتِ عملیوں کو اختیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔وفد سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیرِ صحت، سید مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے خلاف قومی ردِعمل کو بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ، حکومت کی مؤثر نگرانی اور صحت کی خدمات کی مضبوط فراہمی کے ذریعے مزید مستحکم کیا گیا ہے، تاکہ بچوں کو ویکسین کے ذریعے قابلِ انسداد تمام بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری وسیع تر حفاظتی ٹیکہ جات اور بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مسلسل مضبوط بنا رہی ہے۔ توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات اور انسدادِ پولیو پروگرام کے درمیان مزید مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے حفاظتی ٹیکہ جات کی رسائی میں بہتری آ رہی ہے، بالخصوص ان بچوں تک جو اب تک کسی بھی ویکسین سے محروم ہیں (زیرو ڈوز) یا جن کی ویکسی نیشن نامکمل ہے۔ یہی نظام، جو پولیو وائرس کی منتقلی کا سلسلہ روکنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں، خسرہ، ہیپاٹائٹس اور ویکسین کے ذریعے دیگر قابلِ انسداد بیماریوں سے تحفظ کو بھی مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے انسدادِ پولیو کی کوششوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حاصل شدہ کامیابیوں کو برقرار رکھنے اور پولیو کے مکمل خاتمے کے اس اہم موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مسلسل، مربوط اور پائیدار کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی انسدادِ پولیو مہمات، مؤثر نگرانی، مضبوط سرویلنس نظام، ہمارے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی بے مثال خدمات اور سیکیورٹی اہلکاروں کی غیر متزلزل معاونت کی بدولت پولیو کیسز کی تعداد 2024 میں 74 سے کم ہو کر 2025 میں 31 رہ گئی، جبکہ رواں سال اب تک صرف 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ وقت غیر متزلزل عزم، مسلسل کوششوں اور مشترکہ ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔
کسی بھی قسم کی غفلت ہماری پیش رفت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، کیونکہ ہر وہ بچہ جو ویکسین سے محروم رہ جاتا ہے، پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک خطرہ بن جاتا ہے۔ پاکستان کا انسدادِ پولیو پروگرام ملک کو پولیو سے پاک بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک روڈ میپ پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ اس پیش رفت کو برقرار رکھنے، پولیو وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے اور پولیو کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ یقینی بنانے کے اس تاریخی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ہماری مسلسل، مربوط اور مؤثر کوششوں کا جاری رہنا ناگزیر ہے۔ وفد نے پاکستان کے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات اور انسدادِ پولیو پروگرام کی جاری کوششوں کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا اعادہ کیا۔ اس تعاون کا مقصد پولیو پروگرام کی سرگرمیوں اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کے درمیان مزید مؤثر انضمام کو فروغ دینا ہے۔
وفد نے گاوی 6.0 (Gavi 6.0) کی منصوبہ بندی میں پاکستان کے انسدادِ پولیو پروگرام کی شمولیت اور ای پی آئی کے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے شیڈول میں نئی ویکسینز کی شمولیت کے لیے بھی اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔پولیو اوور سائیٹ بورڈ کے اراکین نے ملک بھر سے تعلق رکھنے والی خواتین فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے ساتھ ایک گول میز اجلاس میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے ان کی گراں قدر خدمات کو سراہا اور ان کے حوصلہ افزا تجربات اور پیشہ ورانہ سفر کے بارے میں براہِ راست آگاہی حاصل کی۔پاکستان آمد سے قبل وفد نے افغانستان کا بھی دورہ کیا۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ رواں سال اب تک پاکستان میں پولیو کے 3 جبکہ افغانستان میں 7 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔








