عالمی بینک نے بجلی کی ترسیلی نظام کی بہتری کیلئے پاکستان کو 375.9ملین ڈالرکی مالی معاونت کی منظوری دےدی ہے۔عالمی بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عالمی بینک کے بورڈآف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے جمعہ کوگرڈ اسٹیبلیٹی انہانسمنٹ پراجیکٹ کیلئے 375.9ملین ڈالرکی مالی معاونت کی باضابطہ منظوری دی
عالمی بینک نے بجلی کی ترسیلی نظام کی بہتری کیلئے پاکستان کو 375.9ملین ڈالرکی مالی معاونت کی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):عالمی بینک نے بجلی کی ترسیلی نظام کی بہتری کیلئے پاکستان کو 375.9ملین ڈالرکی مالی معاونت کی منظوری دےدی ہے۔عالمی بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عالمی بینک کے بورڈآف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے جمعہ کوگرڈ اسٹیبلیٹی انہانسمنٹ پراجیکٹ کیلئے 375.9ملین ڈالرکی مالی معاونت کی باضابطہ منظوری دی، یہ منصوبہ 10 سالہ پروگرام کے پہلے مرحلے کے طور پر شروع کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک کے بجلی کی ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، بجلی کی بندش میں کمی لانا اور قابلِ تجدید توانائی کے زیادہ موثر انضمام کو ممکن بنانا ہے۔
یہ منصوبہ بوسٹنگ انرجی سکیورٹی تھرو ٹرانسمیشن اِن پاکستان ( پاک بیسٹ ) ملٹی فیز پروگرامیٹک اپروچ کے تحت نافذ کیا جائے گا۔ اس کا بنیادی مقصد بجلی کے قومی ترسیلی نظام کو مضبوط بنانا اور پاکستان کو ایک زیادہ قابلِ اعتماد، موثر اور پائیدار بجلی کے شعبے کی جانب منتقل کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما اماگاباز ر نے بتایا کہ پاکستان کو درپیش توانائی کے مسائل کا مجموعی معاشی استحکام سے گہرا تعلق ہے ،جدید ٹرانسمیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے بجلی کی لاگت میں کمی آئے گی، قومی گرڈ کی کارکردگی بہتر ہوگی اور قابلِ تجدید توانائی کے زیادہ استعمال کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک ایسے مضبوط اور لچکدار بجلی کے نظام کی بنیاد رکھے گا جو گھریلو صارفین، کاروباری اداروں اور صنعتوں کو بہتر خدمات فراہم کرے گا اور ملکی معاشی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ پاکستان کا بجلی کی ترسیل کا نظام کئی سالوں سے گرڈ کی غیر مستحکم صورتحال اور ترسیلی رکاوٹوں کا شکار ہے، جس کے باعث بجلی کی فراہمی میں بار بار تعطل آتا ہے، قابلِ تجدید توانائی کے وسائل سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا، بجلی کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ منصوبے کے تحت تین اہم 500 کلو وولٹ سب سٹیشنز پر گرڈ کو مستحکم رکھنے والے جدید آلات، جن میں سٹیٹک سنکرونس کمپنسیٹرز شامل ہیں، نصب کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ ملک بھر کے 26 سب سٹیشنز پر فکسڈ ری ایکٹرز اور کیپیسیٹر بینکس لگائے جائیں گے تاکہ بجلی کی ترسیل بہتر ہو، نظام میں استحکام آئے اور بجلی کا بہاو زیادہ موثر بنایا جا سکے ، ان اقدامات کے نتیجے میں جنوبی پاکستان میں اس وقت محدود کی جانے والی 640 میگاواٹ ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ میں منتقل کرنا ممکن ہوگا، جس سے وہاں موجود 1840 میگاواٹ ونڈ پاور کی مکمل استعداد سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ یہ منصوبہ نجی شعبے کی قیادت میں قائم کیے جانے والے تقریباً 491 میگاواٹ کے نئے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو بھی قومی گرڈ سے منسلک کرنے میں مدد دے گا۔عالمی بینک کے مطابق یہ اقدامات پاکستان کو پیرس معاہدے کے تحت اپنی قومی سطح پر طے شدہ شراکت کے ہدف کے قریب لے جائیں گے، جس کے مطابق ملک 2030 تک اپنی مجموعی بجلی میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 60 فیصد تک بڑھانا چاہتا ہے۔
منصوبے کی 25 سالہ متوقع مدتِ کار کے دوران ہر سال تقریباً 832500 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی، جبکہ مجموعی طور پر یہ کمی 20.8 ملین ٹن سے تجاوز کر جائے گی۔عالمی بینک کے لیڈ انرجی سپیشلسٹ ولید صالح نے بتایا کہ پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے جدید اور قابلِ اعتماد ترسیلی نظام ناگزیر ہے، یہ منصوبہ بڑے پیمانے پر صاف توانائی کے فروغ، توانائی کے تحفظ، تجارتی بنیادوں پر مضبوط ٹرانسمیشن سیکٹر کے قیام اور نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، یہ منصوبہ حکومت پاکستان کی جانب سے بجلی کی ترسیل کے شعبے میں جاری اصلاحات میں بھی معاون ثابت ہوگا اوراس کے تحت نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو مختلف خصوصی ذیلی اداروں میں تقسیم کرنے کے عمل میں معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ گورننس، جوابدہی، عملی کارکردگی اور طویل مدتی مالی استحکام کو بہتر بنایا جا سکے۔








