لاہور،حساس ٹیلی کمیونیکیشن معلومات کی مبینہ غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث تین ملزمان گرفتار

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور نےکارروائی کرتے ہوئے صوبائی دارالحکومت کے شہریوں کے کال ڈیٹا ریکارڈ ، سموں کی ملکیت، فیملی رجسٹریشن، لوکیشن ڈیٹا اور دیگر حساس ٹیلی کمیونیکیشن معلومات کی مبینہ غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

لاہور۔10جولائی (اے پی پی):نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور نےکارروائی کرتے ہوئے صوبائی دارالحکومت کے شہریوں کے کال ڈیٹا ریکارڈ ، سموں کی ملکیت، فیملی رجسٹریشن، لوکیشن ڈیٹا اور دیگر حساس ٹیلی کمیونیکیشن معلومات کی مبینہ غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ این سی سی آئی اے حکام کے مطابق ملزمان نہ صرف شہریوں کا خفیہ ڈیٹا غیرقانونی طور پر حاصل کر رہے تھے بلکہ اسے تجارتی مقاصد کے لیے فروخت بھی کیا جا رہا تھا، جو شہریوں کی پرائیویسی، ڈیجیٹل سکیورٹی اور قومی مفادات کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا تھا۔ڈائریکٹر آپریشنز پنجاب محمد علی وسیم کی خصوصی ہدایات پر این سی سی آئی اے لاہور نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) لاہور کی شکایت پر مقدمہ درج کرکے کارروائی کی۔ تحقیقات کے دوران محمد ساغر، محمد اشفاق اور ملک صدام کو گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ ملزمان ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے شہریوں کے کال ڈیٹا ریکارڈ ، سم رجسٹریشن اور ملکیت کی تفصیلات، فیملی رجسٹریشن ریکارڈ، لوکیشن ڈیٹا اور دیگر خفیہ ٹیلی کمیونیکیشن معلومات غیرقانونی طور پر حاصل کرکے مختلف افراد کو فروخت کرتے تھے۔کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 14 موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ، ایک ٹیبلیٹ، 38 سمیں، 10 انٹرنیٹ ڈیوائسز، 9 بائیومیٹرک ویری فکیشن ڈیوائسز، 7 فنگر پرنٹ سکینرز، 3 بلوٹوتھ فنگر پرنٹ سکینرز، 3 کارڈ ریڈرز، 11 میموری کارڈز، 9 یو ایس بیز، 8 ہارڈ ڈسکس و ریمز اور 60 فنگر پرنٹس کی ہارڈ کاپیاں برآمد کر کے قبضے میں لے لی گئیں۔ڈائریکٹر آپریشنز پنجاب محمد علی وسیم نے کہا کہ شہریوں کے ذاتی اور حساس ڈیٹا کی غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، اور ایسے منظم سائبر جرائم میں ملوث ہر کردار کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔