خواتین اساتذہ کی ہراسگی پر خاموشی ناقابل قبول، سپریم کورٹ نے ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے سربراہوں کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین اساتذہ کو ہراسگی سے محفوظ ماحول فراہم کریں اور اگر انہیں ہراسگی کی شکایات موصول ہوں تو ان پر فوری اور مؤثر کارروائی کریں، بصورت دیگر انہیں اپنی انتظامی غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے سربراہوں کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین اساتذہ کو ہراسگی سے محفوظ ماحول فراہم کریں اور اگر انہیں ہراسگی کی شکایات موصول ہوں تو ان پر فوری اور مؤثر کارروائی کریں، بصورت دیگر انہیں اپنی انتظامی غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر نے جسٹس مسرت ہلالی کے ہمراہ پنجاب حکومت اور شازیہ اقبال کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب سروس ٹریبونل کا وہ حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے ذریعے پانچ سالہ سابقہ سروس ضبط کرنے کی سزا کم کرکے ایک سال کر دی گئی تھی اور محکمہ کی جانب سے عائد کی گئی پانچ سالہ سروس ضبطی کی سزا بحال کر دی۔عدالت نے قرار دیا کہ فیصل آباد کے گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سینٹر کی ہیڈ مسٹریس شازیہ اقبال کے خلاف محکمانہ انکوائری میں ثابت ہوا کہ انہوں نے ادارے میں تعینات سپیچ تھراپسٹ کی جانب سے خواتین اساتذہ کو ہراساں کئے جانے کی شکایات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کی اور اپنی انتظامی و نگرانی کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہیں۔ ان پر یہ الزام بھی ثابت ہوا کہ مذکورہ ملازم کو غیرقانونی طور پر ادارے میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت دی گئی جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ محکمانہ انکوائری قانونی تقاضوں کے مطابق ہوئی، خواتین اساتذہ نے گواہی دی، جرح کا مکمل موقع دیا گیا اور ان کے بیانات کو رد نہیں کیا جا سکا۔ عدالت کے مطابق ایسے سنگین الزامات میں غیر معمولی نرمی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے صرف تعلیم دینے کی جگہ نہیں بلکہ خواتین اور دیگر ملازمین کے لئے محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ اگر ادارے کا سربراہ ہراسگی کی شکایات پر خاموش رہے تو اس سے متاثرین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور پورا تعلیمی ماحول غیر محفوظ بن جاتا ہے۔عدالت نے کہا کہ ہر تعلیمی ادارے میں واضح انسداد ہراسگی پالیسی، شکایات درج کرنے کا مؤثر نظام، غیر جانبدار انکوائری کمیٹیاں اور شکایت کنندگان کو انتقامی کارروائی سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے تحفظِ خواتین از ہراسگی در مقامِ کار ایکٹ 2010، بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے کنونشن 190 اور بین الاقوامی عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کام کی جگہ پر ہراسگی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنا تمام اداروں کی ذمہ داری ہے۔

مزید خبریں