وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کی ناسا حکام اور امریکی ایرو سپیس کمپنیوں کے نمائندوں سے اہم ملاقات، پاکستان کے خلائی وژن پر پیش رفت پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے ہیوسٹن میں ناسا حکام اور امریکی ایرو اسپیس کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر کے خلائی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ہیوسٹن میں ناسا حکام اور امریکی ایرو سپیس کمپنیوں کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کیں

جن میں پاکستان کے خلائی وژن، خلائی تعلیم، سائنسی تحقیق اور نوجوانوں کے لیے عالمی معیار کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جمعہ کو یہاں وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان نوجوان نسل میں سائنسی جستجو، تحقیق اور جدت کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے قومی سپیس ایجوکیشن پروگرام پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نارووال میں سپیس ایکسپلوریشن سینٹر کے قیام کا منصوبہ اسی وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد نئی نسل کو کائنات، سائنس اور خلائی تحقیق سے روشناس کرانا اور انہیں مستقبل کے سائنسدانوں، محققین اور موجدوں کے طور پر تیار کرنا ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ سپیس لرننگ سینٹر محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ قومی سطح پر علم، تحقیق اور اختراع کے فروغ کا ایک اہم سنگ میل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خلائی سائنس سے بچوں اور نوجوانوں کو روشناس کرانا دراصل پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، کیونکہ یہی نوجوان آگے چل کر ملک کی سائنسی، تحقیقی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کی قیادت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان دنیا کا قیمتی ٹیلنٹ ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ ناسا اور امریکی اداروں کے اشتراک سے انہیں عالمی معیار کی تربیت، تحقیق اور عملی تجربے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے نوجوان انجینئرز، سائنسدان اور آئی ٹی ماہرین عالمی خلائی صنعت میں نمایاں کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر انہیں درست رہنمائی، تربیت اور عالمی روابط میسر ہوں تو وہ ملک کے لیے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے امریکی ایرو سپیس کمپنیوں کو پاکستان میں ڈویلپمنٹ سینٹرز قائم کرنے اور پاکستانی نوجوان ٹیلنٹ سے استفادہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ناسا کے تجربات، تربیتی پروگرامز اور علمی تعاون سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناسا اور امریکی صنعت کی جانب سے تعاون میں گہری دلچسپی پاکستان کے لیے حوصلہ افزاء پیش رفت ہے اور اس سے سائنسی و تکنیکی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا ہدف 2035ء تک چاند پر قومی مشن بھیجنا اور 2047ء تک قمری موجودگی قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وژن محض خلائی مہمات تک محدود نہیں بلکہ علم، تحقیق، جدت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھنے کی ایک جامع قومی حکمت عملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلائی پروگرام کو عالمی شراکت داری، جدید تحقیق اور نوجوان افرادی قوت کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا تاکہ ملک کو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ناسا اور امریکی صنعت کے ساتھ تعاون سے پاکستان میں سائنس، خلائی تعلیم اور تحقیق کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات کا نیا رخ تعلیم، موسمیاتی تعاون، سائنسی تحقیق، اختراع اور خلائی ٹیکنالوجی پر استوار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو جیوپولیٹکس سے آگے بڑھا کر جیو اکنامکس، سائنس اور ٹیکنالوجی شراکت داری تک وسعت دی جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان سائنس، اختراع اور عالمی شراکت داری کے ذریعے اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید علوم، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی تاکہ پاکستان خطے میں سائنسی ترقی، خلائی تحقیق اور اختراعی معیشت کے ایک مضبوط مرکز کے طور پر ابھر سکے۔