وزیراعلیٰ ہاؤس میں وفاقی اور صوبائی حکام کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں موسم سے متعلق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پیشگی حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلی ہائوس میں وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان اعلی سطح کا اجلا س، موسم سے متعلق ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کا جائزہ

مزید خبریں
کراچی۔ 10 جولائی (اے پی پی):موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات اور مون سون کے عروج کے قریب پہنچنے کے پیش نظر وزیراعلی ہائوس میں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سندھ میں سیلاب، شہری علاقوں میں بارش کے پانی کی جمع ہونے کی صورتحال، ہیٹ ویوز اور موسم سے متعلق دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ۔
جمعہ کو وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکام نے شرکت کی، جہاں موسمیاتی رجحانات، ممکنہ آفات، سیلابی خطرات، متاثر ہونے والے علاقوں اور امدادی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا ۔اس موقع پر وفاقی حکومت کے وفد کو بتایا گیا کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر تمام محکموں کو پورے مون سون سیزن کے دوران اعلی سطح کی تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جس میں باہمی رابطے، موثر مواصلاتی نظام اور بروقت ردعمل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کے دوران کمزور اور حساس آبادیوں کا موثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں نہایت معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ابتدائی وارننگ سسٹمز، مقامی سطح پر مزاحمتی صلاحیت اور عوامی آگاہی کو مضبوط بنانا ہمارے عوام اور معیشت کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔اجلاس میں سندھ حکومت کے وفد میں وزیر آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب، وزیراعلی سندھ کے مشیر گیان چند اسرانی، سیکریٹری وزیراعلی آصف جمیل، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری ماحولیات فیصل عقیلی، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سلمان شاہ، سیکریٹری بحالی مصطفی شیخ اور دیگر حکام شامل تھے۔ وفاقی حکومت کے وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کی جبکہ وفد میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے رکن برائے موسمیاتی تبدیلی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی محترمہ زارا اور دیگر حکام شامل تھے۔اجلاس میں شرکاء کو بتایا گیا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات میں مسلسل اضافہ درپیش ہے جن میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب، بادل پھٹنے کے واقعات، اچانک سیلاب، دریائی سیلاب، شہری علاقوں میں پانی جمع ہونا، ہیٹ ویوز، سمندری طوفان، خشک سالی اور سمندر کی سطح میں اضافے کے اثرات شامل ہیں۔ موسمیاتی تخمینوں کے مطابق 15 جولائی سے 30 اگست 2026 کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت، شدید گرم اور مرطوب موسم اور فعال مون سون سیزن متوقع ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے نیشنل ریزیلینس اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کوآرڈینیشن فریم ورک پر بریفنگ دی اور نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے ذریعے روایتی ابتدائی وارننگ سسٹمز سے پیش گوئی پر مبنی ڈیزاسٹر انٹیلی جنس کی جانب منتقلی سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل کامن آپریٹنگ پکچر اور گلوبل کامن آپریٹنگ پکچر کو مربوط کیا گیا ہے جس سے موسمیاتی، آبی اور زمینی معلومات کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہوئی ہے تاکہ اثرات پر مبنی ایڈوائزریز، پیش گوئیاں اور ابتدائی انتباہات جاری کیے جا سکیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ خصوصی طور پر اس لیے زیادہ حساس صوبہ ہے کیونکہ یہ دریائے سندھ کے آخری حصے میں واقع ہے، جہاں سیلاب کی شدت، پانی کی مقدار اور دورانیہ عموما سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ سندھ میں سیلاب تین بنیادی ذرائع سے آتا ہے، جن میں دریائے سندھ، کیرتھر رینج سے آنے والے پہاڑی ریلے اور مون سون کی بارشوں سے پیدا ہونے والے سیلاب شامل ہیں۔شرکاء نے صوبے کے حساس اضلاع کا بھی جائزہ لیا، جن میں کشمور، گھوٹکی، سکھر، شکارپور اور لاڑکانہ کے دریائی سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقے، دادو، جامشورو اور قمبر شہدادکوٹ کے اچانک سیلاب اور پہاڑی ریلوں سے متاثرہ علاقے جبکہ کراچی، حیدرآباد، شہید بینظیر آباد، بدین، سجاول اور ٹھٹھہ کے شہری سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقے شامل ہیں۔محکمہ آبپاشی نے اجلاس کو سندھ کے سیلاب سے تحفظ کے بنیادی ڈھانچے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں تقریبا ایک ہزار تین سو پچیس میل طویل حفاظتی بند موجود ہیں جن میں آٹھ سو پچھتر میل فرنٹ لائن بند، تین سو اکتیس میل لوپ بند اور ایک سو انیس میل سیلابی حفاظتی بند شامل ہیں جبکہ اس کے علاوہ لیفٹ بینک آئوٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) کا نظام بھی موجود ہے۔ اجلاس میں دریائے سندھ کے طاس میں سیلابی پانی کے بہا ئوکے نظام اور سندھ کے بیراجوں پر استعمال ہونے والے سیلاب کی درجہ بندی کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں معمول کے سیلاب، کم درجے کے سیلاب، بلند درجے کے سیلاب، انتہائی بلند درجے کے سیلاب اور سپر فلڈ کی کیٹیگریاں شامل ہیں۔حکام نے اجلاس کو بتایا کہ سیلابی حفاظتی بندوں کا مسلح افواج کے تعاون سے سروے کیا جا رہا ہے جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پاکستان ریلوے اور دیگر اہم اداروں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے درمیان چوبیس گھنٹے رابطے کا نظام بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ معلومات کی فوری ترسیل اور مربوط ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔شرکاء کو مزید بتایا گیا کہ دو ہزار چھبیس تا ستائیس کے دوران متوقع ایل نینو کی صورتحال خریف کی فصلوں کو شدید گرمی اور پانی کی کمی کے باعث متاثر کر سکتی ہے۔ چاول، کپاس، مکئی اور گنے کی پیداوار مختلف درجوں تک متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے غذائی تحفظ اور دیہی علاقوں میں روزگار کو بھی اضافی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ بھر میں اکتالیس ہزار چھ سو سے زائد تربیت یافتہ رضاکار ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دستیاب ہیں جن میں سول ڈیفنس کے اہلکار، ریسکیو اسکاٹس، پاکستان ریڈ کریسنٹ کے رضاکار، الخدمت کی ٹیمیں، اسکاٹس اینڈ گائیڈز، ہیلپنگ ہینڈز کے رضاکار اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے رضاکار شامل ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی بریفنگ میں ہنگامی حالات کے دوران مختلف نوعیت کے خطرات سے متعلق انتباہات کی بروقت ترسیل اور افواہوں کے تدارک کے لیے مقامی میڈیا، کمیونٹی ریڈیو نیٹ ورکس، ٹیلی کام انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل فوکل پرسنز کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا، تاکہ مربوط افواہ کنٹرول نظام کے ذریعے درست معلومات عوام تک پہنچائی جا سکیں۔اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے طویل المدتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں ٹھنڈی سڑکیں، حرارت منعکس کرنے والی شاہراہیں، ہیٹ اسٹروک مراکز، جدید طرز کے پارکس، ساحلی علاقوں کی منظم منتقلی، مینگرووز کی شجرکاری، شہری درختوں کی راہداریاں، گرین روفز، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ شہری منصوبہ بندی کے اقدامات شامل ہیں۔محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے حکام نے سندھ میں موسمیاتی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں جن میں سندھ کلائمیٹ انفارمیشن سسٹم (ایس سی آئی ایس) کا قیام، مربوط ڈیجیٹل موسمیاتی ابتدائی وارننگ پلیٹ فارم کی تشکیل، ضلعی سطح پر موسمیاتی خطرات کے ڈیش بورڈز، موسمیاتی حساسیت کی نقشہ سازی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور رپورٹنگ سسٹمز، طوفانی بارشوں کے پانی کے انتظام کے منصوبے، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے اقدامات، شہری سیلاب کی ماڈلنگ اور ماحولیاتی نظام پر مبنی موافقتی پروگرام شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں مینگرووز کی بحالی کے منصوبے کو مزید وسعت دینے، اسپنج سٹی منصوبہ بندی کے اصولوں کو فروغ دینے، ہیٹ ویو اور سیلاب سے نمٹنے کے ایکشن پلانز کو توسیع دینے، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ کے نظام کو مضبوط بنانے اور موسمیاتی پیش گوئی اور خطرات کے بہتر جائزے کے لیے قومی پیش گوئی کرنے والے اداروں کے ساتھ روابط مزید مستحکم کرنے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔اس موقع پر وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ سندھ نے مختلف محکموں کے درمیان بہتر رابطوں، سیلاب سے تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کے ذریعے مون سون سیزن کے لیے اپنی تیاریوں میں نمایاں بہتری لائی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم دریائوں کے نظام، نکاسی آب کے نیٹ ورک اور سیلاب سے تحفظ کے ڈھانچوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور انسانی جان و مال کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ ملک ٹیکنالوجی، پیش گوئی پر مبنی تجزیاتی نظام اور حقیقی وقت کی معلومات پر مبنی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی وارننگ سے پیش گوئی پر مبنی ڈیزاسٹر انٹیلی جنس کی جانب منتقلی سے خطرات کا پیشگی اندازہ لگانے، بروقت ایڈوائزریز جاری کرنے اور ہر سطح پر بہتر اور موثر فیصلے کرنے کی ہماری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی انتظامیہ نے اپنی تمام تیاریوں کا نظام فعال کر دیا ہے اور وفاقی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔








