معاشی بحالی اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کاروبار دوست ماحول ناگزیر ہے، طاہر ایوب

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک میں کاروبار کرنے میں آسانی (Ease of Doing Business) کو یقینی بنانے کے لیے جامع، جرات مندانہ اور دیرپا ریگولیٹری اصلاحات متعارف کرائی جائیں کیونکہ مضبوط اور پائیدار معیشت کا انحصار ایک ایسے کاروبار دوست ماحول پر ہے جہاں سرمایہ کاروں کو غیر ضروری رکاوٹوں، …

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک میں کاروبار کرنے میں آسانی (Ease of Doing Business) کو یقینی بنانے کے لیے جامع، جرات مندانہ اور دیرپا ریگولیٹری اصلاحات متعارف کرائی جائیں کیونکہ مضبوط اور پائیدار معیشت کا انحصار ایک ایسے کاروبار دوست ماحول پر ہے جہاں سرمایہ کاروں کو غیر ضروری رکاوٹوں، پیچیدہ قواعد و ضوابط اور طویل مراحل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

چیمبر ہائوس میں مختلف کاروباری وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بے شمار معاشی مواقع، نوجوان افرادی قوت، اہم جغرافیائی محل وقوع اور متحرک نجی شعبہ کا حامل ملک ہے لیکن غیر ضروری ضابطے، اختیارات میں مداخلت، طویل کاغذی کارروائی اور منظوریوں میں غیر معمولی تاخیر کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی رفتار کو سست کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی پیداوار اور روزگار میں اضافہ کیلئے کاروباری سہولت کو اولین ترجیح بنانا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کاروباری سہولتوں کی فراہمی کے لئے ضابطہ جاتی نظام کو عالمی معیار کے مطابق سادہ، شفاف، ڈیجیٹل اور سرمایہ کار دوست بنایا جائے۔

طاہر ایوب نے تجویز پیش کی کہ کاروباری رجسٹریشن، لائسنسنگ، ٹیکس ادائیگی، یوٹیلیٹی کنکشنز، این او سیز اور دیگر تمام سرکاری منظوریوں کے لیے ایک مربوط ون ونڈو ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے تاکہ کاروباری برادری کو ایک ہی پلیٹ فارم پر تمام سہولیات میسر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف کاروبار کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ شفافیت بڑھے گی، انسانی مداخلت کم ہو گی اور غیر ضروری تاخیر و صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ بھی ممکن ہو گا۔انہوں نے کہا کہ فرسودہ قوانین، غیر ضروری قواعد و ضوابط اور ایک ہی نوعیت کے متعدد ادارہ جاتی تقاضوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ کاروباری طبقہ پر غیر ضروری بوجھ کم کیا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس اور ریگولیٹری پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔ بار بار کی پالیسی تبدیلیاں کاروباری منصوبہ بندی اور نئی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے کہا کہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنا اب محض ایک انتظامی اصلاح نہیں بلکہ قومی معاشی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کی متضاد شرائط اور پیچیدہ طریقہ کار کی وجہ سے کاروباری برادری کا قیمتی وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔