سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو بتایا گیا کہ دریاؤں پر تجاوزات کی نگرانی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے کی جا رہی ہے، جبکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کی تعمیراتی لاگت کا تقریباً 80 فیصد بجلی کی پیداوار سے وصول کیا جا چکا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس، پانی کے شعبے کے ترقیاتی منصوبوں، واپڈا کی کارکردگی اور سیلابی انتظامات کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو بتایا گیا ہے کہ دریاؤں پر تجاوزات کی نگرانی کے نظام پر سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے کام جاری ہے اور صوبائی حکام ضلعی انتظامیہ کے ذریعے تجاوزات کے خاتمے کے لئے سرگرم عمل ہیں ،نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کی تعمیراتی لاگت کا تقریباً 80 فیصد بجلی کی پیداوار کے ذریعے پہلے ہی وصول کیا جا چکا ہے۔
سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد، آبی شعبے کے لئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی مالیاتی تخصیص اور واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی کارکردگی اور ذمہ داریوں پر جامع بریفنگ کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی نے متعدد سفارشات پر متعلقہ اداروں پر بروقت عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ عملدرآمد رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ دریاؤں پر تجاوزات کی نگرانی کے نظام پر سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے کام جاری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا نے تجاوزات کے 227 مقامات کی نشاندہی کی ہے جن میں سے صرف 18 مقامات کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی جا سکی ہیں جبکہ پنجاب نے 2737 تجاوزات کی نشاندہی کی ہے۔ واپڈا نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبائی حکام ضلعی انتظامیہ کے ذریعے تجاوزات کے خاتمے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔چیئرمین سینیٹر جام سیف اللہ خان نے سیلاب کی پیش گوئی اور دریاؤں کے انتظام میں جدید ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس سیلابی انتظام کے لئے سیٹلائٹ اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لئے مختص کیا جائے۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ سندھ طاس معاہدہ، پاکستان میں مستقبل کے آبی ذخائر کی تعمیر اور قومی آبی سلامتی کے مضمرات پر ایک اِن کیمرا اجلاس منعقد کیا جائے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میں وزارتِ خارجہ، عالمی بینک، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، فیڈرل فلڈ کمیشن اور صوبائی محکمہ آبپاشی کے نمائندوں کو تفصیلی مشاورت کے لیے مدعو کیا جائے گا۔کمیٹی نے فیڈرل فلڈ کمیشن میں عملے کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ڈیم سیفٹی کونسل بل کا مسودہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور جلد ہی وزارتِ آبی وسائل کو ارسال کر دیا جائے گا۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ اس وقت ڈیموں کی حفاظت کسی مخصوص قانونی فریم ورک کے بجائے انتظامی اقدامات کے تحت کی جا رہی ہے۔کمیٹی نے ملک بھر میں زیر زمین پانی کی تیزی سے کم ہوتی سطح پر تفصیلی بحث کی۔ ارکان کو بتایا گیا کہ پنجاب کے متعدد اضلاع، جن میں اوکاڑہ، وہاڑی، ساہیوال، ملتان اور لاہور شامل ہیں، میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے۔ چیئرمین سینیٹر جام سیف اللہ خان نے زیر زمین پانی کے تحفظ، جدید آبپاشی کے طریقوں اور پائیدار آبی انتظام کے لیے بین الاقوامی بہترین طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ کرتے ہوئے آبی وسائل کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے دوران سینیٹر محمد اسلم ابڑو نے دریائے راوی کے کنارے تجاوزات پر تشویش کا اظہار کیا۔ پنجاب کے محکمہ آبپاشی نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت کوئی سنگین تجاوزات موجود نہیں ہیں تاہم دریا کے کنارے ہاؤسنگ منصوبوں سے متعلق سوالات کے جواب میں چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ مکمل اور تصدیق شدہ معلومات کمیٹی کو فراہم کریں اور ضرورت پڑنے پر آئندہ اجلاس میں اس موضوع پر الگ ایجنڈا آئٹم کے تحت تفصیلی بریفنگ دیں۔کمیٹی نے سیلابی میدانوں کے انتظام کے نظام کا بھی جائزہ لیا۔ وزارتِ آبی وسائل نے بتایا کہ صوبوں میں فلڈ پلین زوننگ کا نظام موجود ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے تمام صوبوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فلڈ پلین زوننگ نقشے کمیٹی کے سامنے پیش کریں تاکہ موجودہ خامیوں کی نشاندہی کر کے ان کا ازالہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو آئندہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔زیر زمین پانی کے انتظام کے حوالے سے سندھ کے محکمہ آبپاشی نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبے میں تقریباً 80 فیصد زیر زمین پانی کھارا ہے اور اس حوالے سے ایک صوبائی قانون تیار کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے حکومت سندھ کو ہدایت کی کہ قانون کا مسودہ کمیٹی کو فراہم کیا جائے۔ خیبرپختونخوا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پائیزومیٹرز کی عدم تنصیب کے باعث اب تک زیر زمین پانی کا جامع سروے نہیں کیا جا سکا۔ بلوچستان کے حکام نے بتایا کہ صوبے میں سالانہ زیر زمین پانی کا استعمال دستیاب وسائل سے زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کے 18 بیسنز میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ صوبائی حکام نے زیر زمین پانی کی نگرانی، ری چارج ڈیموں کی تعمیر اور جی آئی ایس پر مبنی فیصلہ سازی کے نظام کی تیاری کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ کمیٹی نے سابقہ اجلاسوں کی 11 سفارشات پر غور کیا جبکہ باقی سفارشات آئندہ اجلاس میں زیر غور لائی جائیں گی۔اجلاس میں سینیٹر خلیل طاہر، پونجو بھیل، اسد قاسم، محمد اسلم ابڑو اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔








