الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال نے شدید گرمی اور مون سون کے موسم میں آنکھوں کی خشکی، جلن، سرخی اور دھندلی بینائی کے بڑھتے مسائل سے بچاؤ کے لیے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
گرمی اور حبس سے امراض چشم بڑھ رہے ہیں، ماہر امراض چشم الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 10 جولائی (اے پی پی):الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی اور مون سون کے دوران خشک آنکھوں، جلن، سرخی اور دھندلی بینائی کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی، زیادہ نمی، گردوغبار، پولن، دھواں اور پنکھوں یا ایئرکنڈیشنرز کے سامنے طویل وقت گزارنے سے آنکھوں کی قدرتی آنسوؤں کی حفاظتی تہہ متاثر ہوتی ہےجس کے نتیجے میں جلن اور تکلیف پیدا ہوتی ہے۔ کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد، زیادہ وقت تک گاڑی چلانے والے اور مسلسل ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں رہنے والے افراد اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے شعبہ آربیٹ اور اوکیولو پلاسٹک کے سربراہ ڈاکٹر طیب افغانی نے کہا کہ خشک آنکھوں کی بیماری معمولی مسئلہ نہیں، اس موسم میں آنکھوں میں جلن، ضرورت سے زیادہ پانی آنا، ریت جیسا احساس اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری پیدا ہو سکتی ہےجبکہ آنکھیں بار بار ملنے سے آنکھ کی سطح کو مزید نقصان پہنچنے اور پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دفتری ملازمین، طلبہ، بزرگ افراد، کانٹیکٹ لینز استعمال کرنے والے افراد اور ذیابیطس یا الرجی کے مریض موجودہ موسمی حالات میں ان علامات کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات نے جولائی سے ستمبر 2026 تک ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں طویل ہیٹ ویو کی پیش گوئی کی ہے۔ڈاکٹر طیب افغانی نے لوگوں کو زیادہ پانی پینے، دھوپ میں چشمہ استعمال کرنے، آنکھیں نہ ملنے اور گردوغبار و دھویں سے حتی الامکان بچنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل اسکرین سے باقاعدہ وقفے لینے، زیادہ بار پلکیں جھپکنے، آنکھیں خشک ہونے کی صورت میں کانٹیکٹ لینز اتارنے اور ماہرِ چشم کے مشورے سے چکناہٹ بخش قطرے استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ اگر آنکھوں کی سرخی برقرار رہے، درد ہو، روشنی سے حساسیت بڑھ جائے، آنکھ سے رطوبت خارج ہو یا اچانک بینائی دھندلی ہو جائے تو فوری طور پر ماہرِ چشم سے رجوع کرنا چاہیے ۔ شدید گرمی اور زیادہ نمی کے دوران بچوں، کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد اور بزرگوں پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ ان میں پانی کی کمی اور موسم کے اثرات کا خطرہ زیاد ہ ہوتا ہے۔








