قائمہ کمیٹی صحت کاایم ڈی کیٹ 2026 میں پاسنگ معیار برقرار رکھنے کا فیصلہ، نجی میڈیکل کالجوں کی فیسوں پر بھی بڑا اقدام
قائمہ کمیٹی صحت کاایم ڈی کیٹ 2026 میں پاسنگ معیار برقرار رکھنے کا فیصلہ، نجی میڈیکل کالجوں کی فیسوں پر بھی بڑا اقدام

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، رکن قومی اسمبلی، کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ایم ڈی کیٹ 2026 کی تیاریوں، طبی تعلیم سے متعلق امور اور فارمیسی کے شعبے میں اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمیٹی نے متفقہ طور پر ایم ڈی کیٹ کے موجودہ پاسنگ معیار کو برقرار رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاسنگ نمبروں میں کسی قسم کی کمی کی مخالفت کی جائے گی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایم ڈی کیٹ 2026 کا انعقاد 16 اگست 2026 کو ہوگا۔
امتحانی نظام کو مزید شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے سوالات کے بینک کو گزشتہ سال کے 6 ہزار سوالات سے بڑھا کر 8 ہزار سوالات تک توسیع دی گئی ہے۔ ہر صوبے کے لیے تین الگ الگ سوالیہ پرچے تیار کیے جائیں گے، جن میں سے ایک پرچہ امتحان کے لیے منتخب کیا جائے گا۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے میرٹ 10 فیصد میٹرک، 40 فیصد انٹرمیڈیٹ اور 50 فیصد ایم ڈی کیٹ کے نمبروں کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے گا۔ ایم ڈی کیٹ کے پرچے میں 45 فیصد حیاتیات، 25 فیصد کیمسٹری، 20 فیصد فزکس، 5 فیصد انگریزی اور 5 فیصد منطقی استدلال پر مبنی سوالات شامل ہوں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار طلبہ ایم ڈی کیٹ 2026 کے لیے رجسٹریشن کرا چکے ہیں جبکہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں ابھی نو دن باقی ہیں، جس کے باعث درخواستوں میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
امتحان میں 180 کثیر الانتخابی سوالات (MCQs) شامل ہوں گے، منفی مارکنگ نہیں ہوگی، امتحان کا دورانیہ تین گھنٹے ہوگا جبکہ ایم بی بی ایس کے لیے کم از کم 55 فیصد اور بی ڈی ایس کے لیے 50 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ کمیٹی نے نجی میڈیکل کالجوں کی فیسوں کے معاملے پر غور کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ سالانہ ٹیوشن فیس 18 لاکھ سے 25 لاکھ روپے کے درمیان محدود ہونی چاہیے۔ نجی میڈیکل کالجوں کو اپنی فیسوں کا جواز بھی پیش کرنا ہوگا جبکہ فی طالب علم تعلیمی اخراجات کے تعین کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ داخلوں کے عمل میں مزید شفافیت کے لیے کمیٹی کے ارکان 20 جولائی 2026 کے بعد اپنے اپنے صوبوں کے متعلقہ وائس چانسلرز سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے ساتھ اس وقت 188 میڈیکل کالج رجسٹرڈ ہیں، جن میں 60 نجی ادارے شامل ہیں۔ نجی میڈیکل کالج سالانہ تقریباً 22 ہزار جبکہ سرکاری میڈیکل کالج تقریباً 14 ہزار گریجویٹس تیار کرتے ہیں۔پی ایم ڈی سی نے وضاحت کی کہ ادارے کے صدر کی تنخواہ 12 لاکھ روپے ماہانہ کرنے اور کونسل ارکان کے ٹی اے/ڈی اے کو 50 ہزار روپے تک بڑھانے سے متعلق خبریں ابھی حتمی فیصلہ نہیں بلکہ صرف تجاویز ہیں۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ میڈیکل کالجوں سے وضاحت طلب کی جائے کہ منظور شدہ نشستیں خالی کیوں رہ جاتی ہیں اور یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ طبی تعلیم کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ ہو۔
فارمیسی کونسل آف پاکستان کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی نے ہدایت دی کہ فارمیسی کونسل رولز 1967 کو موجودہ تقاضوں کے مطابق ازسرنو مرتب کیا جائے۔ نظرثانی شدہ قواعد کا مسودہ اکتوبر 2026 میں کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، قائمہ کمیٹی کے اراکین اور وزارتِ قومی صحت کے سینئر حکام نے شرکت کی۔








