قائمہ کمیٹی داخلہ کا بلوچستان امن و امان پر کوئٹہ میں اجلاس بلانے کافیصلہ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے اور مؤثر سفارشات مرتب کرنے کے لیے کوئٹہ میں خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور انسدادِ منشیات نے بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے تفصیلی جائزے اور ٹھوس سفارشات مرتب کرنے کے لئے مستقبل قریب میں کوئٹہ میں خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلے جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین راجہ خرم شہزاد نواز کی صدارت میں ہونے والے کمیٹی کے 28ویں اجلاس میں کئے گئے جس میں متعلقہ وزرائے مملکت، ارکانِ اسمبلی اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔کمیٹی نے مجموعہ ضابطہ فوجداری اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیم بلوں پر غور مؤخر کر دیا جبکہ وزارتِ قانون کی مشاورت سے مغربی پاکستان موٹر وہیکلز ٹیکسیشن ترمیم بل 2025 کو فنانس ایکٹ کے ذریعے پہلے ہی قانون بننے کے باعث واپس لینے کی سفارش کی۔اجلاس میں اسلام آباد کی شیر دھمیال اور سگہ بنترار سڑکوں کی تعمیر میں طویل تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی ڈی اے کو نئے منصوبوں کے بجائے جاری کاموں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی۔ چیئرمین سی ڈی اے نے بجٹ کی کمی کو وجہ قرار دیتے ہوئے فنڈز کی دستیابی پر کام مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ کمیٹی نے کھنہ ڈاک، کھنہ کاک اور شکریال کی رجسٹری اور انتقال پر پابندی کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے راولپنڈی سے اسلام آباد اراضی ریکارڈ کی منتقلی میں سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب اور کمشنر راولپنڈی کو اگلے اجلاس میں حتمی ٹائم لائن کے ساتھ ذاتی طور پر طلب کر لیا ہے۔اجلاس میں وزرائے مملکت بیرسٹر عقیل ملک، طلال چوہدری سمیت انجم عقیل خان، ملک شاکر بشیر اعوان، چوہدری محمد شہباز بابر، سید رفیع اللہ، سردار نبیل احمد گبول، عبدالقادر پٹیل، نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی، رانا انصار، محمد اعجاز الحق، خوشحال خان کاکڑ اور وزارتِ داخلہ، قانون، سی ڈی اے، ایف آئی اے اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔