حکومت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موبائل سروسز کی توسیع پر 29 کروڑ 89 لاکھ روپے خرچ کرے گی

حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موبائل فون سروسز کی توسیع کے لیے 29 کروڑ 88 لاکھ 75 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل رابطوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):حکومت نے مالی سال 27-2026 کے دوران آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موبائل فون سروسز کی مزید توسیع کے لیے 29 کروڑ 88 لاکھ 75 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ’’آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیلولر سروسز کی توسیع، فیز فور‘‘ کے عنوان سے منصوبہ 2024 میں شروع کیا گیا تھا اور اس کی تکمیل 2027 میں متوقع ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت ایک ارب 99 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔دستاویزات کے مطابق منصوبہ اب تک 90 فیصد جسمانی جبکہ 85 فیصد مالی پیش رفت حاصل کر چکا ہے۔ اب تک ایک ارب 69 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی 29 کروڑ 88 لاکھ 75 ہزار روپے مالی سال 27-2026 کے لیے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اس منصوبے کے تحت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 28 اہم سیلولر سائٹس کے قیام کے ساتھ ساتھ ان کے لیے ضروری سول انفراسٹرکچر بھی تعمیر کیا جائے گا۔

اس کا مقصد موبائل رابطے کو بہتر بنانا، فور جی سروسز کا دائرہ وسیع کرنا اور ان دشوار گزار علاقوں میں مواصلاتی سہولیات کو مضبوط بنانا ہے، جہاں لوگوں کو قابلِ اعتماد ٹیلی کام خدمات تک محدود رسائی حاصل ہے۔پیش رفت رپورٹ کے مطابق 23 سیلولر سائٹس پر سول ورک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ان تمام مقامات تک بجلی کی فراہمی بھی یقینی بنا دی گئی ہے۔اس کے علاوہ 23 مقامات پر فور جی سیلولر آلات نصب اور فعال کر دیے گئے ہیں، جس سے ہدف بنائے گئے علاقوں میں موبائل براڈ بینڈ خدمات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 50 کلومیٹر طویل آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کا کام بھی جاری ہے، جس سے نیٹ ورک کی قابلِ اعتماد کارکردگی بہتر ہوگی اور سیلولر سروسز کے لیے مضبوط بیک ہال کنیکٹیویٹی فراہم کی جا سکے گی۔

توقع ہے کہ اس منصوبے سے مقامی آبادی، طلبہ، کاروباری طبقہ، سیاح، ہنگامی امدادی ادارے اور سرکاری محکمے مستفید ہوں گے، کیونکہ ڈیجیٹل مواصلاتی سہولیات تک رسائی مزید بہتر ہوگی۔بہتر موبائل کوریج آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، ای کامرس، سیاحت کے فروغ اور قدرتی آفات کے دوران بروقت امدادی کارروائیوں میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔دستاویزات کے مطابق یہ منصوبہ حکومت کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد جغرافیائی طور پر دشوار گزار اور مواصلاتی سہولیات سے محروم علاقوں تک جدید ٹیلی کام انفراسٹرکچر پہنچا کر ڈیجیٹل تفاوت کو کم کرنا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ان علاقوں کی دور افتادہ آبادی کو زیادہ قابلِ اعتماد موبائل اور براڈ بینڈ خدمات میسر آئیں گی۔