چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد منگل کے روز بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں بی آئی ایس پی کے آفیشل فیس بک پیج کے ذریعے لائیو ای-کچہری کا انعقاد کیا۔ بی آئی ایس پی سے جاری بیان کے مطابق ای کچہری میں ملک بھر سے خواتین مستحقین نے فون کالز کے ذریعے اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔
سینیٹر روبینہ خالد کی بی آئی ایس پی کے آفیشل فیس بک پیج کے ذریعے لائیو ای-کچہری

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد منگل کے روز بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں بی آئی ایس پی کے آفیشل فیس بک پیج کے ذریعے لائیو ای-کچہری کا انعقاد کیا۔ بی آئی ایس پی سے جاری بیان کے مطابق ای کچہری میں ملک بھر سے خواتین مستحقین نے فون کالز کے ذریعے اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ای-کچہری کے دوران اپنے پیغام میں سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے مستحق خواتین کی سہولت، شفافیت اور آسانی کے لیے ڈیجیٹل والٹ کا نیا نظام متعارف کرایا ہے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے خواتین کو ہدایت کی کہ جن مستحقین نے ابھی تک بی آئی ایس پی دفتر سے اپنی مفت بینظیر سم حاصل نہیں کی یا کسی اور ذریعے سے سم لی ہے، وہ لازماً اپنے قریبی بی آئی ایس پی دفتر سے جاری کردہ بینظیر سم حاصل کریں، کیونکہ بینظیر کفالت پروگرام کی رقم صرف اسی سم سے منسلک ڈیجیٹل والٹ میں منتقل کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ریٹیلر رقم میں کٹوتی کرے یا پوری رقم ادا نہ کرے تو خواتین فوری طور پر ایس ایم ایس کی بنیاد پر اپنی مکمل رقم کا مطالبہ کریں اور بی آئی ایس پی کے عملے یا ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائیں۔انہوں نے کہا کہ امدادی رقم خواتین کے ڈیجیٹل والٹ میں محفوظ رہے گی، اس لیے فوری رقم نکلوانے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ رقم صرف بینک کی مجاز ریٹیلر شاپ سے ہی وصول کی جائے اور کسی شخص کے گھر یا کسی دوسری جگہ سے رقم ہرگز نہ لی جائے۔سینیٹر روبینہ خالد نے مستحق خواتین سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں اور غیر مصدقہ معلومات پر ہرگز یقین نہ کریں۔ ای-کچہری کے دوران خواتین مستحقین نے مختلف مسائل اور سوالات پیش کیے جن پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے متعلقہ افسران کو فوری کارروائی اور بروقت حل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ مستحق خواتین کا اعتماد اور تعاون پروگرام کی بہتری کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی خاتون کو دھمکیوں یا افواہوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ کسی فرد کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی مستحق خاتون کی امدادی رقم بند کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کرائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔








