دہشتگردوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے ، میر ضیا اللہ لانگو

صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے زیارت سانحہ کے شہدا کے لواحقین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جن میں جوڈیشل کمیشن کے قیام سمیت دیگر اہم مطالبات بھی شامل ہیں،زیارت سانحہ کے شہدا کسی ایک علاقے یا برادری کے نہیں بلکہ پورے بلوچستان کے شہدا ہیں اور ان کی قربانی پوری قوم کی مشترکہ میراث ہے۔

کوئٹہ۔ 14 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے زیارت سانحہ کے شہدا کے لواحقین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جن میں جوڈیشل کمیشن کے قیام سمیت دیگر اہم مطالبات بھی شامل ہیں،زیارت سانحہ کے شہدا کسی ایک علاقے یا برادری کے نہیں بلکہ پورے بلوچستان کے شہدا ہیں اور ان کی قربانی پوری قوم کی مشترکہ میراث ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کا اظہار کیا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل ہمیشہ مذاکرات میں ہوتا ہے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے بہترین سفارت کاری کے ذریعے اہم کردار ادا کیا تاہم بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان اور یہاں کے عوام ہمارے اپنے ہیں۔ جن لوگوں کے ساتھ استحصال یا ناانصافی ہوئی ہے، ان کے لیے بلوچستان حکومت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں لیکن ایسے عناصر سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے جو دہشت گردی میں ملوث ہیں اور بیرون ممالک سے فنڈز حاصل کرکے صوبے کے نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

میر ضیا اللہ لانگو نے مزید کہا کہ حکومت شہدا کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ زیارت سانحہ کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے گا، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور شہدا کے اہل خانہ کے جائز مطالبات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔