وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ صوبائی حکومت زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ قریبی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ جدید تحقیق کے ثمرات کسانوں تک پہنچائے جا سکیں
زرعی تعلیم، تحقیق اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ جدید تحقیق کا فروغ ناگزیر ہے، میاں محمد عمر

مزید خبریں
پشاور۔ 14 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ صوبائی حکومت زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ قریبی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ جدید تحقیق کے ثمرات کسانوں تک پہنچائے جا سکیں، زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات پروفیسر ڈاکٹر داؤد جان سے سول سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کے دوران کیا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر داؤد جان نے مشیر زراعت کو یونیورسٹی کی حالیہ پیش رفت، مالیاتی استحکام کے ماڈل، طلبہ وطالبات کے لیے وظائف، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
انہوں نے مشیر زراعت کو اگست میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات میں منعقد ہونے والی دوسری بین الاقوامی کانفرنس برائے کلائمیٹ ریزیلینٹ ماؤنٹین ایگریکلچر (CRMA-2026) کی تیاریوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ مشیر وزیراعلیٰ برائے زراعت میاں محمد عمر نے یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات کی تعلیمی و تحقیقی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے معیاری تعلیم، جدید تحقیق اور اختراعی ٹیکنالوجی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت زرعی تحقیق کو عملی شعبے سے جوڑنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔








