خاندانی منصوبہ بندی کے ساتھ شعور اجاگر کرنا بھی لازم، بیٹے کی خواہش میں زیادہ بچوں کی پیدائش ضروری نہیں، سائرہ افضل تارڑ

سابق وزیر صحت اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی کوآرڈینیٹر برائے پاپولیشن کنٹرول سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے اٹھارہویں آئینی ترمیم بہترین اقدام ہے جس کے باعث صوبے اپنی سطح پر مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں،

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):سابق وزیر صحت اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی کوآرڈینیٹر برائے پاپولیشن کنٹرول سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے اٹھارہویں آئینی ترمیم بہترین اقدام ہے جس کے باعث صوبے اپنی سطح پر مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں،

خاندانی منصوبہ بندی کے ساتھ یہ شعور بھی اجاگر کرنا ضروری ہے کہ اگر دو بچوں میں دونوں بیٹیاں ہوں تو صرف بیٹے کی خواہش میں مزید بچوں کی پیدائش ضروری نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم آبادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ آج پنجاب حکومت کی نمائندگی کر رہی ہیں کیونکہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ساتھ آبادی پر قابو پانے کے حوالے سے کام کر رہی ہیں، وفاقی حکومت آبادی پر قابو پانے کی مہم پر مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب دیہی علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی کے لیے جاتے ہیں تو وہاں ایسے بچے بھی نظر آتے ہیں جن کے پاس مناسب جوتے اور کپڑے تک موجود نہیں ہوتے،آبادی میں توازن اور بہتر وسائل کی فراہمی کے لیے خاندانی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم ایک بہترین اقدام ہے جس کے باعث صوبے اپنی سطح پر مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے ساتھ یہ شعور بھی اجاگر کرنا ضروری ہے کہ اگر دو بچوں میں دونوں بیٹیاں ہوں تو صرف بیٹے کی خواہش میں مزید بچوں کی پیدائش ضروری نہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی بات کی جائے تو بعض اوقات اسے مغربی ایجنڈا قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ اصل توجہ بچوں کی بہتر پرورش، تعلیم اور صحت پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "اللہ تعالیٰ یہ نہیں پوچھے گا کہ کتنے بچے تھے بلکہ یہ پوچھے گا کہ ان کی تربیت اور پرورش کیسے کی۔

انہوں نے کہا کہ ماؤں کی اموات میں کمی لانا انتہائی اہم ہے ،اسی مقصد کے لیے پنجاب حکومت خاندانی منصوبہ بندی کے شعبے میں بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔سائرہ افضل تارڑ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں ہیلتھ کیئر نظام کے ذریعے مانع حمل ادویات کی سو فیصد دستیابی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ایک لاکھ چالیس ہزار خواتین تک خاندانی منصوبہ بندی کی معلومات اور سہولیات پہنچائی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جمعے کے خطبات کے ذریعے بھی عوام میں آگاہی پیدا کی جا رہی ہے اور علمائے کرام سے درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ ذمہ دارانہ والدین، صحت مند خاندان اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

مزید خبریں