خیبرپختونخوا حکومت کا چترال میں 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر و بحالی کا منصوبہ

"خیبرپختونخوا حکومت نے اپر و لوئر چترال میں تاریخی شندور پولو گراؤنڈ سمیت 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر و بحالی کے لیے 2 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دے دی، جس کا مقصد سیاحت کے فروغ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور کھیلوں کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔”

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا حکومت نے اپر اور لوئر چترال میں تاریخی شندور پولو گراؤنڈ سمیت 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر و بحالی کے لیے 2 ارب روپے کے سیاحت اور ثقافتی ورثے سے متعلق منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق اس منصوبے کا مقصد چترال کی اہم ترین ثقافتی اور تاریخی روایات میں شامل پولو کے کھیل کا تحفظ اور فروغ دینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھیلوں پر مبنی سیاحت کو فروغ دینا اور مقامی آبادی کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی اس منصوبے کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔دستاویز کے مطابق شندور پولو فیسٹیول خطے کے اہم ترین سیاحتی ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔ یہ میلہ شندور ٹاپ پر چترال اسکاؤٹس، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور حکومت گلگت بلتستان کے تعاون سے منعقد کیا جاتا ہے۔اس فیسٹیول کے دوران ٹرانسپورٹ، رہائش، خوراک، عارضی اسٹالز اور مقامی تجارت سمیت مختلف سیاحتی سرگرمیوں سے اپر اور لوئر چترال کی مقامی آبادی کو لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ چترال کی پولو ثقافت اس خطے کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ روایتی چترالی پولو رسمی کلب پولو کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار، زیادہ جسمانی اور مقامی تہواروں و سماجی اجتماعات سے گہرا تعلق رکھنے والا کھیل ہے۔دستاویز میں خطے کے دیگر اہم ثقافتی اور سیاحتی میلوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں شندور پولو فیسٹیول، پری شندور پولو ٹورنامنٹ، قاقلشٹ فیسٹیول، بروغل فیسٹیول، کھٹ فیسٹیول، چلم جوشی فیسٹیول، اُوچال سمر فیسٹیول اور چویموس ونٹر فیسٹیول شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر و بحالی کا منصوبہ چترال کے لیے تجویز کردہ سیاحت سے متعلق تمام منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ دیگر منصوبوں میں سیاحتی آرام گاہیں، پکنک مقامات، کیمپنگ پوڈ ولیجز اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔دستاویز کے مطابق ان 12 پولو گراؤنڈز کی تعمیر سے چترال اپنے روایتی کھیل کو مزید مضبوط سیاحتی برانڈ میں تبدیل کر سکے گا، جس سے مقامی کھلاڑیوں، ٹرانسپورٹرز، ہوٹل مالکان، دکانداروں اور چھوٹے کاروباروں کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔پولو گراؤنڈز کے منصوبے کے علاوہ دستاویز میں چترال کے لیے متعدد دیگر سیاحتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں اپر چترال کے بونی میں ٹورسٹ فیسیلیٹیشن اینڈ ریسٹ ایریا کا قیام، لوئر چترال کے گرم چشمہ اور اپر چترال کے سورلاسپور میں سیاحتی پکنک مقامات کی ترقی، جبکہ بمبوریت، سورلاسپور اور یارخون لشٹ میں کیمپنگ پوڈ ولیجز کا قیام شامل ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں اور سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔دستاویز میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبے بھی شامل ہیں، جن میں 17.1 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر پر ایک ارب 78 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ ایون۔بمبوریت اور زینے پاس سڑکوں کو آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ اپر چترال، لوئر چترال، اپر دیر، لوئر دیر اور مانسہرہ میں "میزبان” (ہوسٹ) ٹورازم پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت ہوم اسٹے سہولتوں کے فروغ کے لیے ایک سے تین ملین روپے تک کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔