سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں ماہرین نے پیاز کی ویلیو ایڈیشن سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز پیش کرتے ہوئے کٹائی کے بعدہونے والے نقصانات میں کمی، غذائی تحفظ کے فروغ اور دیہی سطح پر روزگار و کاروباری مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا
سندھ زرعی یونیورسٹی میں پیاز کی ویلیو ایڈیشن ٹیکنالوجیز پر سیمینار، ماہرین کا دیہی معیشت مضبوط بنانے پر زور

مزید خبریں
ٹنڈوجام۔15جولائی (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں ماہرین نے پیاز کی ویلیو ایڈیشن سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز پیش کرتے ہوئے کٹائی کے بعدہونے والے نقصانات میں کمی، غذائی تحفظ کے فروغ اور دیہی سطح پر روزگار و کاروباری مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام اور سندھ ہایئر ایجوکیشن کمیشن (SHEC) کے مالی تعاون سے مکمل ہونے والے تحقیقی منصوبے ’’سٹڈی آن دی ویلیو ایڈیشن آف اونین اِن سندھ پراونس آف پاکستان‘‘ کے اختتامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر، میرٹوریس پروفیسر انجینئر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ زرعی جامعات کو روایتی تحقیق سے آگے بڑھتے ہوئے زرعی اجناس اور ان کی ضمنی مصنوعات کو تجارتی بنیادوں پر قابلِ استعمال مصنوعات میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجیز پر توجہ دینی چاہیے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور ملکی معیشت کو تقویت مل سکے۔انہوں نے کہا کہ خام زرعی پیداوار کو کم قیمت پر فروخت کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن کے ذریعے زیادہ معاشی قدر رکھنے والی مصنوعات تیار کی جائیں، جس سے فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی آئے گی اور دیہی علاقوں میں گھریلو و کاٹیج انڈسٹریز، خصوصاً خواتین، نوجوانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسانوں، فوڈ پروسیسرز اور صنعت کاروں کو جدید ٹیکنالوجی، تکنیکی رہنمائی اور مشاورتی خدمات فراہم کریں تاکہ زرعی بنیادوں پر صنعتوں کو فروغ دیا جا سکے۔تحقیقی منصوبے کی پرنسپل انویسٹی گیٹر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر تحسین فاطمہ میانو نے بتایا کہ منصوبے کا مقصد کم لاگت اور قابلِ عمل ٹیکنالوجیز تیار کرنا تھا تاکہ چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے فوڈ پروسیسرز، کسانوں کے گروپس اور کاروباری افراد ان سے استفادہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پیاز کی ویلیو ایڈیشن سے نہ صرف کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ پائیدار زراعت، غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کے استحکام میں بھی مدد ملے گی۔سیمینار کے دوران تحقیقی ٹیم نے پیاز سے تیار کردہ مختلف ویلیو ایڈڈ مصنوعات، جن میں پیاز پاؤڈر، ڈی ہائیڈریٹڈ پیاز رنگز، پیاز فلیکس، پیاز پیسٹ اور پیاز کا اچار شامل ہیں کی نمائش کی۔ اس موقع پر ایسی جدید پراسیسنگ اور پیکیجنگ ٹیکنالوجیز بھی متعارف کرائی گئیں جو غذائیت برقرار رکھنے، مصنوعات کی شیلف لائف بڑھانے اور ذخیرہ و ترسیل کے دوران ہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔سیمینار میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC)، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO)، مختلف جامعات، تحقیقی اداروں، سرکاری محکموں، فوڈ انڈسٹری، زرعی توسیعی اداروں، ترقی پسند کسانوں، اساتذہ، محققین اور طلبہ نے شرکت کی۔ شرکانے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعات اور صنعت کے باہمی تعاون، تحقیق کے تجارتی استعمال اور کسانوں و زرعی صنعتوں کی استعداد کار میں اضافے کے ذریعے پیاز کی ویلیو ایڈیشن ٹیکنالوجیز کو ملک بھر میں فروغ دیا جائے گا۔







