چھ ماہ میں 70 پاور پلانٹس، 43 نئے انجن اور کوچز شامل، آپریشنل ضروریات پوری ہونے سے مسافر اور مال گاڑیوں کا آپریشن، سہولیات اور آمدن میں نمایاں بہتری آئے گی، وفاقی وزیر ریلوے

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ آئندہ 6 ماہ کے دوران 70 پاور پلانٹس، 43 نئے امریکی لوکوموٹوز اور نئی و مرمت شدہ مسافر کوچز ،انجن ریلوے بیڑے میں شامل ہو جائیں گے، ان بنیادی آپریشنل ضروریات کے پورا ہونے سے مسافر اور مال گاڑیوں کے آپریشن میں مزید بہتری آئے گی، عوام کے لیے سفری سہولیات جدید ہوں گی اور محکمے کی آمدن میں نمایاں …

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ آئندہ 6 ماہ کے دوران 70 پاور پلانٹس، 43 نئے امریکی لوکوموٹوز اور نئی و مرمت شدہ مسافر کوچز ،انجن ریلوے بیڑے میں شامل ہو جائیں گے، ان بنیادی آپریشنل ضروریات کے پورا ہونے سے مسافر اور مال گاڑیوں کے آپریشن میں مزید بہتری آئے گی، عوام کے لیے سفری سہولیات جدید ہوں گی اور محکمے کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ مقامی سطح پر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے چاروں صوبوں کے اشتراک سے لوکل ٹرینیں چلانے کے معاہدے کیے جا رہے ہیں جس کے تحت 14 اگست کو بلوچستان میں ’’پیپلز ٹرین‘‘ کا شاندار افتتاح کیا جائے گا۔ محکمے میں وی آئی پی کلچر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرتے ہوئے اپنے سمیت ریلوے حکام کے لئے سیلون ،گیسٹ ہائوسز کے کمروں کے استعمال پر پابندی عائد کردی، سیلون اور گیسٹ ہائوسز کی یہ سہولیات عام عوام مناسب کرائے پر حاصل کرسکتے ہیں۔ ریلوے کی مجموعی آمدن 115 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔اے پی پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی نے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ گزشتہ 9 سے 10 سال کے دوران ٹرینوں کے انجنوں اور پاور پلانٹس کی مناسب مرمت اور دیکھ بھال نہیں کی گئی تاہم موجودہ انتظامیہ نے اس چیلنج پر قابو پا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح مسافر ٹرینوں کا نظام بہتر بنانا ہے جس کے لیے 30 ستمبر تک امریکی 43’جی یو 40‘ (GU-40) انجن سسٹم میں شامل ہو جائیں گے جبکہ ہر ماہ 7 نئے پاور پلانٹس بھی سسٹم کا حصہ بن رہے ہیں۔ آئندہ 6 ماہ میں کوچز کی کمی کا مسئلہ بھی مکمل طور پر حل کر لیا جائے گا جس سے ریلوے کا پہیہ اپنی پوری اور سو فیصد رفتار سے چلے گا۔ریلوے میں مساوات اور عوامی سہولیات کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے محمد حنیف عباسی نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریلوے کے اندر اوپر کی سطح سے وی آئی پی کلچر کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ منسٹر سیلون، چیئرمین سیلون، چیف ایگزیکٹو سیلون اور آئی جی ریلوے کے زیراستعمال سیلونز سمیت وی وی آئی پی موومنٹ کے لیے مخصوص تمام سیلونز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب یہ لگژری سیلونز اور ریسٹ ہائوسز کے وی آئی پی کمرے عام عوام کے لیے مختص کر دیئے گئے ہیں جو مناسب کرائے کی ادائیگی کے بعد ان سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔محکمے کی مالیاتی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے کے مزدور سے لے کر افسران تک سب کے شاندار ٹیم ورک کی بدولت ہم نے انہی محدود وسائل، ٹریک اور پرانے نظام کے ساتھ محکمے کی آمدن کو 188 ارب کے ہدف کی جانب گامزن کرتے ہوئے فی الحال 115 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے۔ بالخصوص مال گاڑیوں (فریٹ ٹرینز) کے شعبے میں انجنوں اور بوگیوں کی کمی کے باوجود 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فریٹ سیکٹر کی آمدن جو پہلے 8 ہزار ملین روپے تھی، اب ہماری مسلسل کوششوں سے دگنی ہو کر 16 ہزار ملین تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ سال اس میں مزید اضافے کا عزم ہے۔ریلوے اراضی پر قبضوں کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملک بھر میں ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی اراضی مرحلہ وار واگزار کرائی جا رہی ہے۔ محکمے کی ایک انچ زمین پر بھی کسی کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ واگزار کرائی گئی تمام رہائشی، کمرشل اور زرعی زمینیں اب ریلوے خود اوپن نیلامی کے ذریعے لیز پر دے گا۔ اسی تسلسل میں آئندہ ہفتے پشاور ڈویژن کے حکام کو طلب کیا گیا ہے تاکہ وہاں واگزار کرائی گئی اراضی پر کمرشل پلانز کو حتمی شکل دی جا سکے۔مقامی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ نے 3 روٹس پر لوکل ٹرین چلانے کی منظوری دے دی ہے جس پر وزارت ریلوے وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری لینے کے بعد جلد عمل درآمد کی طرف جائے گی۔ اسی طرح پنجاب حکومت 8 اور سندھ حکومت 3 روٹس پر لوکل ٹرینیں چلانے جا رہی ہے۔ جبکہ 14 اگست کو بلوچستان میں شروع ہونے والی ’پیپلز ٹرین‘ کے کامیاب آپریشن کے لیے بلوچستان حکومت کی جانب سے 14 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، جو عوام کے لیے ایک بہترین تحفہ ثابت ہوگا