پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر انڈور فائیو جی کنیکٹیویٹی منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا جس سے ہوائی اڈے کے اندر ڈیجیٹل رابطوں اور جدید سہولیات کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔منصوبے کی افتتاحی تقریب اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر منعقد ہوئی جہاں حکام نے اس اقدام کو ہوائی اڈوں کی جدید کاری اور مسافروں کو عالمی معیار کی …
اسلام آباد ایئرپورٹ پر انڈور فائیو جی کنیکٹیویٹی منصوبے کا آغاز

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر انڈور فائیو جی کنیکٹیویٹی منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا جس سے ہوائی اڈے کے اندر ڈیجیٹل رابطوں اور جدید سہولیات کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔منصوبے کی افتتاحی تقریب اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر منعقد ہوئی جہاں حکام نے اس اقدام کو ہوائی اڈوں کی جدید کاری اور مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔حکام کے مطابق اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پاکستان کا پہلا ہوائی اڈہ بن گیا ہے جہاں جامع انڈور فائیو جی کنیکٹیویٹی متعارف کرائی جا رہی ہے جو پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے جدت، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ترقی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔اس موقع پر سی ای او اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سید آفتاب شاہ گیلانی نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد ٹرمینل کے تمام حصوں میں تیز رفتار اور بلا تعطل موبائل کنیکٹیویٹی دستیاب ہوگی جس سے مسافروں کو بہتر ڈیجیٹل سہولیات میسر آئیں گی جبکہ ایئرلائنز اور دیگر متعلقہ اداروں کی آپریشنل کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف مسافروں کے سفری تجربے میں بہتری آئے گی بلکہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے لیے نان ایئروناٹیکل ریونیو کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری، مسافروں کی سہولت میں اضافے اور پاکستان کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایجنڈے کی حمایت کے لیے اتھارٹی کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔حکام نے امید ظاہر کی کہ انڈور فائیو جی کنیکٹیویٹی منصوبہ ملک کے دیگر ہوائی اڈوں کے لیے بھی ایک قابل تقلید ماڈل ثابت ہوگا اور پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو مزید تقویت فراہم کرے گا۔








