صوفیا کرام کی تعلیمات رواداری، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

"چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا عظیم صوفیانہ ورثہ رواداری، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے، جبکہ صوفیا کرام کی تعلیمات انتہاپسندی اور عدم برداشت جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔”

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے عظیم صوفیانہ ورثے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوفیا کرام کی تعلیمات رواداری، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور عصرِ حاضر میں بڑھتی ہوئی تقسیم، عدم برداشت اور انتہاپسندی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قیمتی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) میں فنکاروں رومی اور ایمن کی آرٹ نمائش "تصوف اور ثقافت” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے نمائش کے انعقاد پر پی این سی اے کو مبارکباد دی اور فنکاروں کو ایسے موضوع کے انتخاب پر سراہا جو پاکستان کی روحانی اور ثقافتی روایات کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا کی چند نمایاں ترین صوفیانہ روایات کا امین ہے جنہوں نے ہماری شاعری، موسیقی، فنِ تعمیر، زبانوں اور لوک ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تصوف کا پیغام احترام، محبت، ہمدردی اور بقائے باہمی پر مبنی ہے جن کی آج کی دنیا میں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ احترام نفرت سے زیادہ طاقتور، مکالمہ تصادم سے زیادہ دیرپا اور بقائے باہمی تفریق سے زیادہ سودمند ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہی آفاقی اصول پرامن، جامع اور مضبوط معاشروں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے فنکاروں رومی اور ایمن کی تخلیقی کاوشوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا فن اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کا ثقافتی ورثہ آج بھی عصری اظہارِ فن کو متاثر کر رہا ہے اور نئی نسل کو اپنی روحانی اور ثقافتی اقدار سے جوڑنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے نمائش کے کامیاب انعقاد میں کردار ادا کرنے والے پی این سی اے اور دیگر متعلقہ افراد کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔نمائش میں فنکاروں، ثقافتی شخصیات، سفارتکاروں، فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

مزید خبریں