فیس لیس اسیسمنٹ شفافیت، دیانت داری اور یکساں کسٹمز اسیسمنٹ کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام ہے،خرم اعجاز

کراچی۔16جولائی (اے پی پی):فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ایڈوائزری کونسل برائے کسٹمز کے چیئرمین اور سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی خرم اعجاز نے کہا ہے کہ فیس لیس اسیسمنٹ شفافیت، دیانت داری اور یکساں کسٹمز اسیسمنٹ کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام ہے ۔ جمعرات کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک نے فیس لیس …

کراچی۔16جولائی (اے پی پی):فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ایڈوائزری کونسل برائے کسٹمز کے چیئرمین اور سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی خرم اعجاز نے کہا ہے کہ فیس لیس اسیسمنٹ شفافیت، دیانت داری اور یکساں کسٹمز اسیسمنٹ کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام ہے ۔

جمعرات کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک نے فیس لیس اسیسمنٹ کے نفاذ کے لیے مختلف ماڈلز اختیار کیے ہیں۔ امریکا، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا اور سنگاپور جیسے ممالک پیچیدہ کسٹمز معاملات میں شعبہ وار تکنیکی مہارت سے استفادہ کرتے ہیں۔خرم اعجاز نے کہا کہ عالمی کسٹمز تنظیم (ڈبلیو سی او) بھی ٹیرف درجہ بندی، کسٹمز ویلیویشن اور رسک مینجمنٹ جیسے شعبوں میں پیشہ ورانہ مہارت کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ خرم اعجاز نے کہا کہ مشینری، کیمیکلز، ادویات اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں درست اسیسمنٹ کے لیے خصوصی مہارت رکھنے والے افسران کی ضرورت برقرار ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کسٹمز عالمی بینک، ڈبلیو سی او یا ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) جیسے بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کا آزادانہ جائزہ لینے پر غور کرے، اس جائزے میں کسٹمز اسیسمنٹ اور کارگو کلیئرنس کے دورانیے، تجارتی سہولت، ٹیرف درجہ بندی اور کسٹمز ویلیویشن میں یکسانیت، تنازعات میں کمی، حکومتی ریونیو کے تحفظ اور پیچیدہ مصنوعات کی اسیسمنٹ کے معیار جیسے عوامل کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔