سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ فیکٹری یا دیگر غیر منقولہ ڈھانچوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور سریے جیسے تعمیراتی سامان پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت قابل قبول نہیں جبکہ قانون کے لازمی تقاضوں خصوصاً بینکنگ چینل اور ٹیکس کی سرکاری خزانے میں جمع آوری سے متعلق شرائط کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سیلز ٹیکس ، تعمیراتی سامان پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ مسترد، سپریم کورٹ نے ایف بی آر کے حق میں فیصلہ دے دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ فیکٹری یا دیگر غیر منقولہ ڈھانچوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور سریے جیسے تعمیراتی سامان پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت قابل قبول نہیں جبکہ قانون کے لازمی تقاضوں خصوصاً بینکنگ چینل اور ٹیکس کی سرکاری خزانے میں جمع آوری سے متعلق شرائط کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے دائر سول اپیل نمبر 939/2018 منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (ATIR) کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور محکمہ محصولات کا اصل حکم بحال کر دیا۔ یہ فیصلہ 7 جولائی 2026 کو محفوظ کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جولائی سے دسمبر 2013 کے دوران باوانی شوگر ملز کی جانب سے سیمنٹ اور سریے پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ قانون اور متعلقہ ایس آر اوز کے منافی تھا جبکہ بینکنگ چینل، سپلائر کی جانب سے ٹیکس جمع کرانے اور مطلوبہ ریکارڈ کی فراہمی جیسے قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ قانون کے کسی نکتے پر کسی سرکاری نمائندے یا وکیل کی رعایت عدالت پر لازم نہیں ہوتی کیونکہ قانون کے خلاف کوئی استوپل (Estoppel) نہیں ہوتا اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی درست تشریح کرے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس مقدمے میں زیر بحث معاملات محض حقائق نہیں بلکہ قانون کی تشریح سے متعلق اہم سوالات تھے اس لیے ہائی کورٹ اور اے ٹی آئی آر کا انہیں صرف حقائق کا معاملہ قرار دینا درست نہیں تھا۔








