سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کا انعقاد وادی میں جمہوری عمل کے تسلسل، عوامی نمائندگی اور کشمیری عوام کے سیاسی تشخص کی علامت ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات جمہوری تسلسل،عوامی نمائندگی اور سیاسی تشخص کی علامت ہے، فردوس عاش اعوان

مزید خبریں
سیالکوٹ ،20 جولائی (اے پی پی):سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کا انعقاد وادی میں جمہوری عمل کے تسلسل، عوامی نمائندگی اور کشمیری عوام کے سیاسی تشخص کی علامت ہے۔
اپنے عوامی رابطہ آفس کوبے چک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے نمائندے آزادانہ طور پر منتخب کرنے کا حق حاصل ہے اور تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ انتخابی عمل کو پرامن، شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ راولا کوٹ میں دھرنے کی آڑ میں سرگرم بعض غیر سیاسی عناصر کشمیری عوام کو ان کے جمہوری حق اور حقِ خودارادیت کی منزل سے دور دھکیل رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ضرور ہے لیکن ایسے اقدامات جو انتخابی عمل میں رکاوٹ یا بدامنی کا باعث بنیں ان سے گریز اور تمام فریقوں کو مذاکرات اور جمہوری ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن پاکستان کے دفاع کے لیے پاک فوج نے دہائیوں سے بے مثال قربانیاں دی ہیں جنہیں پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس لیے شہدا یا قومی سلامتی کے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعِ وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے قوم کے ہیرو ہیں اور ان کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر قومی سلامتی، ریاستی اداروں اور شہدا کے احترام کو سیاست سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بانی پی ٹی آئی کے خاندان کی جانب سے بھارت اور بھارتی قیادت سے متعلق سامنے آنے والے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات قومی جذبات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہر مشکل وقت میں ملک کا دفاع کیا ہے اور عالمی سطح پر بھی ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے قومی دفاع کو مزید مضبوط بنایا اور پاکستان کی عسکری قیادت کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کے معاملات پر تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے جن سے ملک دشمن عناصر کو فائدہ پہنچنے کا تاثر پیدا ہو۔ انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور اس کے بغیر پاکستان کا تصور ادھورا ہے، وہاں امن و استحکام، ترقی اور قومی یکجہتی کے لیے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر قومی اداروں کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، ریاستی رٹ کے استحکام اور ملکی سلامتی کے لیے تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔








