مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے شہری اور بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہورہا ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی، غزہ اور لبنان میں جاری تشدد کے باعث شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ ۔22جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی، غزہ اور لبنان میں جاری تشدد کے باعث شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور (اوچا)کے مطابق ایران کے کم از کم چھ صوبوں میں حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ صوبہ ہرمزگان میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹ پر حملے سے 20 دیہات کی پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی جس سے تقریباً 10 ہزار افراد متاثر ہوئے۔ اسی طرح صوبہ ایلام کے شہر دہلوران میں پانی کی پیداوار کی ایک تنصیب کو نقصان پہنچا جبکہ صوبہ خوزستان کے شہر اہواز میں بچوں کے کینسر ہسپتال کو فضائی حملوں کے باعث ثانوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔اوچا کے مطابق کویت میں بھی گزشتہ چار روز کے دوران بجلی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔غزہ کی صورتحال پر ادارے نے بتایا کہ گولہ باری، فضائی حملوں اور فائرنگ کے باعث شہری مسلسل خطرات سے دوچار ہیں۔

جمعے کے روز نصیرات پناہ گزین کیمپ کے قریب ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، یہ حملہ اس وقت ہوا جب قریبی علاقے میں نماز جنازہ کے بعد بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ اوچا کے مطابق خان یونس کے مغرب میں عارضی تعلیمی مرکز میں خدمات انجام دینے والے ایک استاد کو بھی اسرائیلی فائرنگ میں نشانہ بنایا گیا، رواں سال کے آغاز سے اب تک تعلیمی شعبے سے متعلق 26 سکیورٹی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سکولوں، عارضی تعلیمی مراکز، طلبہ اور اساتذہ کو نقصان پہنچا ۔ادھر لبنان میں جاری حملوں کے باعث بے گھر خاندانوں کی اپنے گھروں کو واپسی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اوچا کے مطابق ملک بھر میں اب بھی چار لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہیں جن میں تقریباً 30 ہزار اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں، متاثرہ خاندانوں کو رہائش، صاف پانی، حفظانِ صحت کی سہولیات اور روزگار کے محدود مواقع جیسے سنگین انسانی مسائل کا سامنا ہے۔اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ انسانی امداد کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں تاکہ بے گھر افراد محفوظ، رضاکارانہ اور باوقار طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔