تیل پیدا کرنے کی صلاحیت 48 لاکھ بیرل سے متجاوز ، امریکا سے طے پانے والے معاہدے ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے،عراق

عراق کے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر نے کہا ہے کہ ملک کی مجموعی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت یومیہ 48 لاکھ بیرل سے تجاوز کر چکی ہے ، وزیراعظم علی الزیدی کے حالیہ دورہ امریکا میں طے پانے والے معاہدے تیل کی پیداوار میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور توانائی کے شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

بغداد۔22جولائی (اے پی پی):عراق کے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر نے کہا ہے کہ ملک کی مجموعی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت یومیہ 48 لاکھ بیرل سے تجاوز کر چکی ہے ، وزیراعظم علی الزیدی کے حالیہ دورہ امریکا میں طے پانے والے معاہدے تیل کی پیداوار میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور توانائی کے شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق انہوں نے سرکاری ٹی وی کے پروگرام المشہد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ عراق 2030 تک قدرتی گیس میں خود کفالت حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہےنیز حکومت اوپیک کے ساتھ سنجیدہ اور تعمیری مذاکرات کر رہی ہے تاکہ ملکی تیل برآمد کرنے کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے۔ عراقی وزیرِ تیل نے کہا کہ وزیراعظم علی الزیدی کے دورہ امریکا کے دوران 7اہم سٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں توانائی کے شعبے سے متعلق طے پانے والے معاہدوں اور منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 200 بلین ڈالر ہے جن سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، عراق کے تیل و گیس کے ذخائر اور پیداوار میں اضافہ ہوگا جبکہ سماجی شعبے میں بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے جن میں طلبہ کے لیے سکالرشپس کے مواقع بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 22 بین الاقوامی کمپنیاں عراق کے تیل کے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق نے گیس آئل (ڈیزل)اور مٹی کے تیل (کیروسین)میں خود کفالت حاصل کر لی ہے جبکہ ملک میں یومیہ 3 کروڑ لیٹر پٹرول پیدا کیا جا رہا ہے،تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ایندھن کی تقسیم کے نظام میں اب بھی بعض چیلنجز موجود ہیں۔ وزیرِ تیل نے کہا کہ عراق اوپیک کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ملک کے تیل برآمد کرنے کے کوٹے میں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ ملک کو اس کا جائز برآمدی حصہ حاصل ہو جبکہ ان غیر معمولی حالات کو بھی مدنظر رکھا جائے جن کا ہم نے جنگوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی صورت میں سامنا کیا ۔