اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کہا ہے کہ ایران خصوصاً ارلی وارننگ سسٹمز، پیشگی ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور ڈیزاسٹر رسک میں کمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبوں میں پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے کا خواہاں ہے، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون اورمعلومات کے تبادلے کو فروغ دینے سے قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے …
ایران ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں پاکستان کے تجربات سے استفادہ کا خواہاں ہے، اسکندر مومنی

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کہا ہے کہ ایران خصوصاً ارلی وارننگ سسٹمز، پیشگی ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور ڈیزاسٹر رسک میں کمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبوں میں پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے کا خواہاں ہے، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون اورمعلومات کے تبادلے کو فروغ دینے سے قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے خطے کی مجموعی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔بدھ کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی ایرانی وفد نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کے ہمراہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹرز میں قائم نیشنل ایمرجنسیز آپریشنز سینٹر کا دورہ کیا۔

این ڈی ایم اے کی ٹیم نے وفد کو نیشنل ایمرجنسیز آپریشنز سینٹر کی جدید صلاحیتوں سے آگاہ کرتے ہوئے پاکستان میں بار بار آنے والی قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے لیے اختیار کیے گئے فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام پر تفصیلی بریفنگ دی۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے علاقائی تعاون کے فروغ اور عالمی سطح پر ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے نئے وژن کے حوالے سے این ڈی ایم اے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔وفد کو حالیہ برسوں میں این ڈی ایم اے کی نمایاں کامیابیوں اور آئندہ مرحلے میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کے حصول کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا جن کا مقصدمستند ڈیزاسٹر ارلی وارننگ (ڈی ای ڈبلیو)نظام قائم کرنا اور امدادی اداروں و وسائل فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان موثر اور مربوط کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔وفد کو قومی اور سکیورٹی قیادت کے ساتھ این ڈی ایم اے کے منظم رابطہ کار، صوبائی و ضلعی حکومتوں کے لیے رہنمائی کے فریم ورک اور عالمی جامعات، انسانی ہمدردی کے اداروں اور امدادی شراکت داروں کے ساتھ جدید روابط کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں کثیر سطحی رابطہ کاری اور آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مضبوط تیاری کے ثمرات اجاگر کیے گئے۔ اس موقع پر مقامی سطح پر خطرات سے متعلق موثر آگاہی، پیشگی اقدامات، قومی وسائل کی بروقت فراہمی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط تعاون کے ذریعے آفات کے دوران فوری امدادی کارروائیوں کے نظام پر بھی روشنی ڈالی گئی۔اس موقع پر ڈیزاسٹر لینس 2026(پاکستان اور عالمی برادری کے لیے) کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا جبکہ جامع بین الاقوامی سیمولیشن مشقوں کی مختلف سرگرمیاں بھی وفد کو دکھائی گئیں۔ایرانی وفد نے این ڈی ایم اے پاکستان کے جدید، موثر اور اعلیٰ معیار کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام اور اس کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے پاکستان اور ایران کے درمیان آفات سے نمٹنے اور ہنگامی ردعمل کے شعبوں میں مسلسل تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ اور ہنگامی تیاری کے نظام میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ایران خصوصاً ارلی وارننگ سسٹمز، پیشگی ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور ڈیزاسٹر رسک میں کمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبوں میں پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون اور علم کے تبادلے کو فروغ دینے سے قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے خطے کی مجموعی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔دونوں ممالک نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور پیچیدہ نوعیت کی آفات سے پیدا ہونے والے نئے خطرات سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔








