راولپنڈی میں ٹماٹر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ، 500 روپے فی کلو تک پہنچ گیا

راولپنڈی میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے شہریوں بالخصوص متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے

راولپنڈی۔22جولائی (اے پی پی):راولپنڈی میں ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے شہریوں بالخصوص متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ روزمرہ کے کھانے پکانے میں ٹماٹر ایک اہم اور لازمی جزو سمجھا جاتا ہے تاہم حالیہ مہنگائی کی لہر کے باعث اب اس کی خرید عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ طلب اور رسد میں پیدا ہونے والا واضح فرق ہے۔ مقامی سبزی منڈیوں میں ٹماٹر کی محدود آمد کے باعث تھوک قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کا براہ راست اثر پرچون مارکیٹ پر پڑا۔ دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے سبزیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف پندرہ روز قبل ٹماٹر تقریباً 200 روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا لیکن مختصر عرصے میں اس کی قیمت میں تقریباً 300 روپے فی کلو کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اب شہر کے مختلف بازاروں میں ٹماٹر تقریباً 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔

قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ عام خاندانوں کے لیے روزمرہ کے کھانے تیار کرنا بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ٹماٹر مہنگا ہونے کے باعث بہت سے گھروں میں اس کے متبادل کے طور پر دہی، املی، لیموں کا رس اور ہلکی مقدار میں سرکہ استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ سالن اور دیگر پکوانوں کا ذائقہ کسی حد تک برقرار رکھا جا سکے تاہم گھریلو خواتین کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کا مکمل متبادل موجود نہیں، اس لیے اس کی بڑھتی ہوئی قیمت نے باورچی خانے کا بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے۔دوسری جانب ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، ڈھابوں اور فوڈ پوائنٹس کے مالکان کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمت میں اضافے سے کھانے تیار کرنے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے کئی اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔شہریوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹماٹر سمیت دیگر سبزیوں کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور سرکاری نرخوں پر موثر عمل درآمد کرا کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔

 

مزید خبریں
اپوزیشن لیڈر جی بی حفیظ الرحمٰن
اپوزیشن لیڈر جی بی حفیظ الرحمٰن کا بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ پر اظہارِ تشویش، کھچی شاہراہ فوری بحال کرنے کا مطالبہ استور 22 جولائی (اے پی پی):سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور قائدِ حزبِ اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی حافظ حفیظ الرحمٰن نے گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت گلگت بلتستان اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں اور عوام کو درپیش مشکلات کے فوری ازالے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع استور کے علاقے کھچی میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مرکزی شاہراہ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ بھاری مشینری فوری طور پر متاثرہ مقام پر پہنچائی جائے اور سڑک کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں جلد از جلد کمی لائی جا سکے۔حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے باعث نہ صرف مقامی افراد بلکہ ملک بھر اور بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان کا رخ کر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شاہراہوں کی بحالی، ٹریفک مینجمنٹ، ریسکیو سروسز، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ سیاحوں اور مقامی آبادی کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔\378