بچوں کا تحفظ، تعلیم اور بااختیار بنانا ایک مضبوط، خوشحال اور پائیدار پاکستان کی بنیاد ہے،عاطف اکرام شیخ

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ بچوں کا تحفظ، تعلیم اور بااختیار بنانا ایک مضبوط، خوشحال اور پائیدار پاکستان کی بنیاد ہے۔ کاروباری برادری صرف معاشی ترقی تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

لاہور۔22جولائی (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ بچوں کا تحفظ، تعلیم اور بااختیار بنانا ایک مضبوط، خوشحال اور پائیدار پاکستان کی بنیاد ہے۔ کاروباری برادری صرف معاشی ترقی تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی ہمیشہ ایسے اقدامات کی حمایت کرتی ہے جو نوجوانوں اور مستحق بچوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کر کے انہیں قومی ترقی کے دھارے میں شامل کریں۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو ، حکومت پنجاب، کے درمیان بچوں کے تحفظ، فلاح و بہبود، تعلیم، ہنر مندی، بحالی اور باعزت روزگار کے فروغ کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئےگئے۔

چیئرمین و نائب صدر ذکی اعجاز اور چائلڈ پروٹیکشن کی چیئرپرسن سارہ احمد نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ۔ ذکی اعجاز نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان ایک موثر شراکت داری کی بنیاد رکھتی ہے، جس کے ذریعے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے زیر کفالت بچوں اور نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق فنی و تکنیکی تربیت، ووکیشنل ایجوکیشن، ڈیجیٹل لٹریسی، انٹرن شپ، اپرنٹس شپ، روزگار، کاروباری مہارت، مالیاتی آگاہی، کیریئر کونسلنگ اور مینٹورشپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایف پی سی سی آئی اپنے ممبر چیمبرز، ٹریڈ ایسوسی ایشنز اور صنعتی اداروں کے تعاون سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور اپرنٹس شپ کے مواقع پیدا کرے گی، جبکہ بچوں کے حقوق، سماجی ذمہ داری اور فلاحی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کانفرنسز، سیمینارز، ورکشاپس، بزنس ڈائیلاگز، آگاہی مہمات اور کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی فورمز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

چیئرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ یہ شراکت داری بے سہارا، نظر انداز اور خصوصی توجہ کے مستحق بچوں کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے تعاون سے بچوں کو تعلیم، ہنر، اعتماد اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں گے، جس سے ان کی سماجی و معاشی بحالی میں نمایاں مدد ملے گی۔

 

مزید خبریں