اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے قدرتی وسائل کی پیداوار اور تجارت کے نظام میں انصاف، شفافیت اور مساوی فوائد کی فراہمی پر زور
اقوام متحدہ کے سربراہ کا قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شفاف حکمرانی پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔23جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے قدرتی وسائل کی پیداوار اور تجارت کے نظام میں انصاف، شفافیت اور مساوی فوائد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وسائل سے مالا مال ممالک اور مقامی آبادی کو ان کے قدرتی وسائل سے منصفانہ اور پائیدار فوائد ملنے چاہییں۔
شنہوا کےمطابق سلامتی کونسل میں قدرتی وسائل کی حکمرانی سے متعلق کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریش نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ اس پرانے نظام کا خاتمہ کیا جائے جس میں قدرتی وسائل ایک ملک سے نکالے جاتے ہیں، ان کی معاشی قدر کہیں اور منتقل ہو جاتی ہے، جبکہ مقامی آبادی ماحولیاتی اور سماجی و اقتصادی نقصانات کا بوجھ اٹھانے پر مجبور رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی قدرتی وسائل پر تسلیم شدہ خودمختاری اور عملی طور پر ان حقوق کے استعمال کے درمیان موجود فرق کو ختم کرنا ضروری ہے، خاص طور پر افریقہ میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممالک اور مقامی برادریوں کو اپنے وسائل سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ فائدہ پہنچنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے معدنیات کی سپلائی چین میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام، شفافیت کے فروغ اور مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل اکثر ایک ملک سے نکالے جاتے ہیں، دوسرے ملک سے منتقل ہوتے ہیں، تیسرے میں ان پر عملدرآمد کیا جاتا ہے اور پھر عالمی منڈیوں میں فروخت کیے جاتے ہیں، اس لیے اصلاحات صرف وسائل کے استخراج تک محدود نہیں ہونی چاہییں بلکہ پوری ویلیو چین کا احاطہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پیداوار، ترسیل اور استعمال سے وابستہ ممالک کے درمیان تعاون ناگزیر ہے، جبکہ بین الاقوامی اور علاقائی تنظیمیں، مالیاتی ادارے اور صنعت بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مضبوط قانونی نظام، مؤثر نگرانی، معلومات کے تبادلے اور سپلائی چین کی مکمل جانچ کے ذریعے غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے وسائل کو قانونی منڈیوں تک پہنچنے سے روکا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی وسائل کے حصول، پراسیسنگ اور فروخت کے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی تاکہ پیداوار کرنے والے ممالک اور متاثرہ برادریوں کو زیادہ معاشی فوائد حاصل ہوں۔ گوتیرش نے کہا، "استحصال اور لوٹ مار کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلح گروہوں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی مالی معاونت روکنا بھی ضروری ہے، کیونکہ یہی وسائل طویل تنازعات، عدم استحکام اور تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی وسائل کو ایسے انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے جو پائیدار ترقی، مضبوط اداروں، امن اور خوشحالی کے فروغ کا ذریعہ بنیں۔








