ایران پر حملے جاری، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاع کے اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے، امریکی فوج

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران پر مسلسل 12ویں رات حملوں میں بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاع کے اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔

واشنگٹن ۔23جولائی (اے پی پی):امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران پر مسلسل 12ویں رات حملوں میں بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاع کے اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔

بی بی سی کے مطابق امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سویلین اور تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت مزید کم ہوئی ہے۔سینٹکام کے مطابق امریکی فوج نے رواں ماہ کے دوران ایران کے درجنوں عسکری مقامات کو نشانہ بنایا ہے جبکہ سمندر میں ایران کے خلاف ناکہ بندی کا دوبارہ آغاز کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آج تک سینٹکام نے نو تجارتی جہازوں کا رخ موڑا ہے اور ایک جہاز کو ناکارہ بنایا ہے تاکہ جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے سے روکا جا سکے ۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی اہلکار پورے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں اور اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے ہر وقت چوکس اور تیار ہیں۔

دوسری طرف ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایران پر امریکی فضائی حملوں کے دوران مزید دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔رپورٹس کے مطابق جاسک اور بوشہر امریکی جنگی طیاروں اور میزائلوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ تاہم ان حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔بوشہر کے نائب گورنر برائے سیاسی و سکیورٹی امور احسان جہانیان نے کہا ہے کہ بوشہر پر حملوں میں جانی نقصان نہیں ہوا۔ادھر ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں کویت کے السالم اڈے پر دھوئیں اور آگ کے بادل دیکھے گئے ہیں۔

مزید خبریں