بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان کے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، چینی وزارت خارجہ

چین نے کہا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان کے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ سی جی ٹی این کے مطابق یہ بات چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے جمعرات کو حالیہ علاقائی صورتحال اور چین۔آسیان تعلقات کے مستقبل کی ترقی پر صحافی کے سوال کے جواب میں کہی۔

بیجنگ۔23جولائی (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان کے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ سی جی ٹی این کے مطابق یہ بات چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے جمعرات کو حالیہ علاقائی صورتحال اور چین۔آسیان تعلقات کے مستقبل کی ترقی پر صحافی کے سوال کے جواب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف کے قائدین کی مشترکہ سٹریٹجک قیادت میں چین اور آسیان کے تعاون کے شاندار ثمرات برآمد ہوئے ہیں۔ چین آسیان کے 8 ممالک کے ساتھ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے بارے میں اہم اتفاقِ رائے حاصل کر چکا ہے۔

بحیرہ جنوبی چین علاقائی ممالک کا مشترکہ گھر ہے اوربحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور آسیان ممالک کے پاس اس بات کی دانش اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے کو مناسب انداز میں سنبھال سکیں تاکہ امن، استحکام، تعاون اور دوستی اس خطے کی نمایاں خصوصیات رہیں اور بحیرہ جنوبی چین میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی باگ ڈور علاقائی ممالک کے اپنے ہاتھ میں رہے۔انہوں نے کہا کہ چین آسیان ممالک کے ساتھ مل کر بیرونی مداخلت اور دیگر رکاوٹوں کو دور کرنے اور بحیرہ جنوبی چین کے ضابطہ عمل پر مذاکرات کو تیز کرنے کے لیے تیار ہے۔